LIVE
Loading Breaking News...

برطانیہ میں مصنوعی ذہانت اور ملازمتوں کی مارکیٹ کا بحران

News Image
برطانیہ میں حالیہ اعداد و شمار سے انکشاف ہوا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی مہارت رکھنے والے تجربہ کار کارکنوں کے لیے نئی ملازمتیں پیدا کی جا رہی ہیں جبکہ دوسری طرف روایتی نشستوں میں کٹوتیاں کی جا رہی ہیں۔ اس رجحان نے برطانوی جاب مارکیٹ کو دو مختلف رفتار کی منڈی میں تبدیل کر دیا ہے۔
برطانیہ میں ملازمتوں کی مارکیٹ کے حوالے سے ایک انتہائی اہم رپورٹ سامنے آئی ہے جس کے مطابق مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی (AI) کی وجہ سے ملک میں جاب مارکیٹ تیزی سے دو مختلف رفتار میں تقسیم ہو رہی ہے۔ معروف جاب پورٹل انڈیڈ کے جاری کردہ نئے اعداد و شمار سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ برطانوی آجران اب ایسے تجربہ کار عملے کو ترجیح دے رہے ہیں جو مصنوعی ذہانت کی جدید مہارتوں سے لیس ہوں، جبکہ دوسری جانب روایتی اور عام شعبوں میں ملازمتوں کے مواقع کو محدود کیا جا رہا ہے۔ اس تبدیلی نے ملک بھر کے ملازمت کے متلاشی افراد کے لیے ایک نیا چیلنج کھڑا کر دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی کے اس تیز رفتار نفاذ کی وجہ سے افرادی قوت کی طلب میں واضح فرق پیدا ہو رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق وہ تمام ادارے جو اپنی پیداواری صلاحیت کو بڑھانا چاہتے ہیں، وہ مصنوعی ذہانت کے ماہرین کی خدمات حاصل کرنے پر بھرپور توجہ دے رہے ہیں۔ اس کے برعکس، ایسے شعبے جو تکنیکی طور پر خود کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالنے میں ناکام رہے ہیں، وہاں ملازمتوں میں کٹوتیاں دیکھنے میں آ رہی ہیں۔ اس صورتحال نے لیبر مارکیٹ میں ایک ایسے توازن کو جنم دیا ہے جہاں صرف انتہائی ہنر مند اور ٹیکنالوجی سے واقف افراد کو ہی ترجیحی بنیادوں پر رکھا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں اس رجحان میں مزید تیزی آ سکتی ہے کیونکہ کمپنیاں اخراجات کم کرنے اور کارکردگی بہتر بنانے کے لیے آٹومیشن کا رخ کر رہی ہیں۔ اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ملازمین کو بھی اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو جدید تقاضوں کے مطابق اپ ڈیٹ کرنا ہوگا تاکہ وہ اس نئی منڈی میں اپنی جگہ برقرار رکھ سکیں۔