Business
اسکاٹ بیسنٹ اور ٹام لی کا کلیرٹی ایکٹ کی فوری منظوری کا مطالبہ
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے جمعرات کے روز سینیٹ پر زور دیا کہ وہ کلیرٹی ایکٹ پر فوری رائے شماری کرائے۔ مالیاتی ماہر ٹام لی نے بھی اس قانون سازی کی فوری ضرورت پر اتفاق کیا ہے۔
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے جمعرات کے روز سینیٹ سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ 'کلیرٹی ایکٹ' (CLARITY Act) پر فوری طور پر رائے شماری کرائے اور اسے قانون کا حصہ بنائے۔ اس موقع پر معروف مالیاتی تجزیہ کار ٹام لی نے بھی ان کے موقف کی تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس بل کی منظوری ملک کی معاشی ترقی اور مالیاتی استحکام کے لیے ناگزیر ہو چکی ہے۔ واشنگٹن میں ہونے والے حالیہ مباحثوں کے دوران دونوں شخصیات نے اس بات پر زور دیا کہ اس بل کو جلد از جلد فائنل کیا جائے تاکہ مارکیٹ میں پائے جانے والے ابہام کا خاتمہ ہو سکے۔
کلیرٹی ایکٹ کا مقصد مالیاتی منڈیوں بالخصوص ڈیجیٹل اور روایتی اثاثوں کے ضابطہ کار کو واضح کرنا ہے۔ اسکاٹ بیسنٹ کا ماننا ہے کہ اس قانون کی منظوری سے سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوگا اور معیشت میں شفافیت کو فروغ ملے گا۔ سینیٹ کے اراکین کے نام اپنے پیغام میں انہوں نے واضح کیا کہ یہ قانون اب عمل درآمد کے لیے بالکل تیار ہے اور اس میں مزید تاخیر کرنے سے گریز کیا جانا چاہیے۔
دوسری جانب، ٹام لی نے بھی اس بل کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اگر اس قانونی فریم ورک کو جلد نافذ نہ کیا گیا تو مالیاتی شعبے کو طویل المدتی چقوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مارکیٹ کے شرکاء کو واضح قوانین کی ضرورت ہے تاکہ وہ بغیر کسی ہچکچاہٹ کے نئے فیصلے۔ اس قانون کی حتمی منظوری کے لیے اب سیاسی حلقوں میں بھی جوڑ توڑ شروع ہو چکی ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے دنوں میں اس پر مزید اہم پیش رفت سامنے آئے گی۔