World
کیلیفورنیا میں گمشدہ افراد کی تلاش کا نیا قانون
کیلیفورنیا میں منظور ہونے والا ایک نیا قانون نفاذِ قانون کے اداروں کو ڈی این اے پروگرام کے قوانین میں نرمی کرکے پرانے اور نئے گمشدہ افراد کے کیس حل کرنے میں مدد فراہم کرے گا۔ اس قانون کے ذریعے ہزاروں لاپتہ افراد کی تلاش میں بڑی پیش رفت متوقع ہے۔
امریکی ریاست کیلیفورنیا میں ایک ایسا انقلابی اور اہم قانون منظور کر لیا گیا ہے جو طویل عرصے سے حل طلب اور نئے گمشدہ افراد کے پراسرار کیسوں کو سلجھانے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے ایک طاقتور اوزار ثابت ہوگا۔ اس نئے قانون کا بنیادی مقصد ریاست کے ڈی این اے پروگرام میں موجود سخت ضوابط اور کنٹرول کو قدرے نرم کرنا ہے تاکہ لاپتہ افراد کی شناخت اور ان کی تلاش کے عمل کو تیز بنایا جا سکے۔ اس قانون سازی کو انسانی حقوق اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی طرف سے ایک تاریخی قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
ماضی میں ڈی این اے کے نمونوں کے حصول اور ان کے تجزیے کے حوالے سے ریاست میں قانونی رکاوٹیں حائل تھیں، جن کی وجہ سے ہزاروں ایسے کیس جن میں کوئی واضح سراغ نہیں ملتا تھا، التوا کا شکار ہو جاتے تھے۔ اس نئے قانون کے نافذ ہونے کے بعد پولیس اور تفتیشی اداروں کے لیے ڈیٹا بیس تک رسائی اور ڈی این اے پروفائلنگ کے دائرہ کار کو وسیع کرنا انتہائی آسان ہو جائے گا۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس تبدیلی سے نہ صرف حالیہ گمشدگی کے واقعات پر تیزی سے قابو پانے میں مدد ملے گی بلکہ دہائیوں پرانے سرد خانے کی نذر ہو جانے والے کیسوں کو بھی دوبارہ کھولنے کی راہ ہموار ہوگی۔
ریاستی حکام کے مطابق اس قانون کے تحت پرائیویسی کے تقاضوں کو برقرار رکھتے ہوئے تفتیشی عمل کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے گا۔ خاندان جو اپنے پیاروں کی گمشدگی کے بعد برسوں سے انصاف اور کسی معجزے کے منتظر ہیں، ان کے لیے یہ قانون ایک نئی امید کی کرن لے کر آیا ہے۔ قانون سازوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ریاست بھر میں لاپتہ افراد کی بڑھتی ہوئی تعداد ایک سنگین مسئلہ تھی جس سے نمٹنے کے لیے اس نوعیت کے جرأت مندانہ اقدام کی اشد ضرورت تھی۔
امید کی جا رہی ہے کہ آنے والے مہینوں میں اس قانون کے مثبت نتائج سامنے آنا شروع ہو جائیں گے۔ پولیس محکمے اس قانون کے تحت اپنے عملے کو جدید تربیت دینے کا ارادہ رکھتے ہیں تاکہ ڈی این اے ٹیکنالوجی کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ گمشدہ افراد کو ان کے خاندانوں سے ملایا جا سکے۔ اس قانون کی منظوری کو دنیا بھر میں سراہا جا رہا ہے اور دیگر ریاستیں بھی اس طرز پر قانون سازی پر غور کر رہی ہیں۔