LIVE
Loading Breaking News...

ناربرٹ وینر کا قول اور جدید دور میں آٹومیشن کا معاشی اثر

News Image
سائبرنیٹکس کے بانی ناربرٹ وینر کا یہ پرانا قول آج کے دور میں بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا اس وقت تھا۔ انتباہ دیا گیا تھا کہ خودکار مشینیں انسانی محنت کا متبادل بن کر معاشی عدم مساوات کو بڑھا سکتی ہیں۔
انسانی تاریخ میں جب بھی مشینوں اور ٹیکنالوجی کی ترقی کا ذکر آیا ہے، اس کے ساتھ ہی محنت کش طبقے کی روزگار کے حوالے سے فکری تشویش بھی پروان چڑھی ہے۔ صنعتی انقلاب کے دنوں سے لے کر آج کے جدید ڈیجیٹل دور تک، یہ سوال ہمیشہ سے اہمیت کا حامل رہا ہے کہ آیا مشینیں انسان کی جگہ لے لیں گی یا نہیں۔ سائبرنیٹکس کے بانی اور نامور مفکر ناربرٹ وینر نے برسوں پہلے ایک ایسا ہی گہرا اور تاریخی انتباہ جاری کیا تھا جو آج کی جدید دنیا میں بالکل سچ ثابت ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ ناربرٹ وینر نے اپنے ایک مشہور قول میں کہا تھا کہ خودکار مشین دراصل غلامی کی معاشی شکل کے مترادف ہے۔ اس بات کا مطلب یہ تھا کہ جب انسان اپنے تمام تر کاموں کے لیے مشینوں پر انحصار کرنے لگتا ہے اور پیداواری عمل سے انسانی محنت کو یکسر نکال باہر کیا جاتا ہے، تو اس کے معاشرے اور معیشت پر انتہائی منفی اور دور رس اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ وینر کا یہ نظریہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ کس طرح سرمائے کے حامل افراد مشینوں کے ذریعے کم سے کم لاگت پر پیداوار حاصل کر سکتے ہیں، جبکہ دوسری طرف عام محنت کش طبقہ اپنے روزگار سے محروم ہو جاتا ہے۔ آج کے دور میں جب مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس عروج پر ہیں، ناربرٹ وینر کے یہ الفاظ پہلے سے کہیں زیادہ معنویت اختیار کر گئے ہیں۔ دنیا بھر کے ماہرین اقتصادیات اور ٹیکنالوجی کے بڑے ادارے اس بات پر بحث کر رہے ہیں کہ آٹومیشن کس طرح دنیا کے مختلف شعبوں میں انسانی افرادی قوت کو بے دخل کر رہی ہے۔ فیکٹریوں کے اندر روبوٹس کی تنصیب ہو یا پھر دفاتر میں سافٹ ویئر سسٹمز کا استعمال، ہر جگہ انسانی مہارت کی جگہ خودکار نظام نے لے لی ہے جس سے معاشی توازن بگڑنے کا خطرہ پیدا ہو چکا ہے۔ مستقبل کے حوالے سے یہ ایک بہت بڑا چیلنج ہے کہ کس طرح تکنیکی ترقی کے فوائد بھی حاصل کیے جائیں اور ساتھ ہی مزدور طبقے کے حقوق اور روزگار کا تحفظ بھی یقینی بنایا جائے۔ اگرچہ ٹیکنالوجی نے زندگی کے معیار کو بہتر بنایا ہے، لیکن اس کے ساتھ پیدا ہونے والے معاشی تفاوت اور بے روزگاری کے بحران سے نمٹنے کے لیے پالیسی سازوں کو نئے سرے سے سوچنا ہوگا۔ ناربرٹ وینر کا یہ انتباہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ٹیکنالوجی کی دوڑ میں انسانیت کو نظر انداز کرنا طویل مدت میں معاشرے کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔