Health
کم چینی کا استعمال اور ڈیمنشیا سے بچاؤ کی نئی تحقیق
نئی سائنسی تحقیق سے انکشاف ہوا ہے کہ حمل اور ابتدائی زندگی میں چینی کا کم استعمال عمر کے آخری حصے میں ڈیمنشیا کے خطرے کو نمایاں طور پر کم کر سکتا ہے۔ یہ مطالعہ انسانی صحت اور غذائی عادات کے طویل المدتی اثرات کو سمجھنے میں اہم پیشرفت ہے۔
ماہرینِ صحت کی جانب سے کی جانے والی ایک نئی اور اہم تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ حمل کے دوران اور زندگی کے ابتدائی سالوں میں چینی کا کم استعمال انسانی جسم اور خاص طور پر دماغ پر انتہائی مثبت اور دیرپا اثرات مرتب کرتا ہے۔ طبی جریدے میں شائع ہونے والی اس ریسرچ کے مطابق جو افراد بچپن اور شروعاتی عمر میں شکر یا میٹھی چیزوں کا استعمال اعتدال میں رکھتے ہیں، ان میں بڑھتی ہوئی عمر کے ساتھ ڈیمنشیا یا یادداشت کی کمزوری جیسے پیچیدہ امراض لاحق ہونے کا خطرہ کافی حد تک کم ہو جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ابتدائی غذائی عادات انسان کی عمر کے آخری حصوں تک صحت پر اثر انداز ہوتی ہیں۔
محققین نے اپنی اس تحقیق کے دوران تاریخی اعداد و شمار اور مختلف غذاؤں کے طویل المدتی اثرات کا گہرائی سے جائزہ لیا۔ انہوں نے دیکھا کہ جن معاشروں یا ادوار میں غذائی قلت یا راشن بندی کے دوران چینی کی مقدار محدود تھی، وہاں پرورش پانے والے افراد میں دہائیوں بعد بھی ڈیمنشیا کی شرح نمایاں طور پر کم دیکھی گئی۔ اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ زندگی کے پہلے ہزار دن یعنی حمل سے لے کر ابتدائی چند سال تک کا عرصہ انسانی دماغ کی نشوونما اور مستقبل کی صحت کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔
ڈاکٹرز اور ماہرینِ غذائیت کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ بچوں کی خوراک میں چینی کی زیادتی نہ صرف موٹاپے اور ذیابیطس جیسے امراض کو جنم دیتی ہے بلکہ یہ مستقبل میں اعصابی کمزوری اور ذہنی تنزلی کا سبب بھی بن سکتی ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کی چھوٹی عمر سے ہی ایسی غذائی عادات اپنائیں جو کم از کم مصنوعی شکر اور فالتو مٹھاس سے پاک ہوں۔ اس سے نہ صرف ان کی جسمانی صحت بہتر رہے گی بلکہ ان کا دماغی نظام بھی زیادہ مضبوط اور توانا ہوگا۔
اس تحقیق کو طبّی دنیا میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ یہ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ بیماریوں کی روک تھام کا آغاز زندگی کے سب سے ابتدائی مرحلے سے ہی شروع ہو جانا چاہیے۔ ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ اس ضمن میں مزید وسیع پیمانے پر کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ عوامی سطح پر غذائی رہنما اصولوں میں تبدیلی لائی جا سکے اور آنے والی نسلوں کو ڈیمنشیا جیسے موذی مرض سے محفوظ بنایا جا سکے۔