World
امریکہ سے مذاکرات کی تردید: ایران کا بیان سامنے آ گیا
ایرانی حکام نے امریکی صدر کے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے جس میں انہوں نے تہران کے ساتھ نئی بات چیت کا عندیہ دیا تھا۔ ایران کا کہنا ہے کہ واشنگٹن کے ساتھ اس وقت کسی قسم کے براہ راست مذاکرات نہیں ہو رہے۔
تہران: ایرانی حکام نے ان تمام اطلاعات اور دعووں کی تردید کی ہے جن میں کہا گیا تھا کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان نئے سرے سے مذاکرات کا آغاز ہونے جا رہا ہے۔ ایرانی ذرائع کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان اس وقت کسی بھی سطح پر براہ راست بات چیت کا کوئی سلسلہ شروع نہیں ہوا۔ یہ ردعمل اس وقت سامنے آیا جب امریکی صدر کی جانب سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایران اب مذاکرات کے لیے آمادہ ہو چکا ہے۔ اس بیان کے بعد عالمی سطح پر سفارتی حلقوں میں چہ مگوئیاں شروع ہو گئی تھیں جنہیں ایرانی تردید کے بعد فی الحال ٹھنڈا کر دیا گیا ہے۔ ایران نے اپنے موقف میں واضح کیا ہے کہ دباؤ کے ماحول میں کسی بھی قسم کے مذاکرات کا انعقاد ممکن نہیں ہے۔ تہران کا ہمیشہ سے یہ مؤقف رہا ہے کہ بین الاقوامی قوانین اور باضابطہ معاہدات کی پاسداری کے بغیر امریکہ کے ساتھ کسی بھی قسم کی بات چیت کا کوئی فائدہ نہیں ہو سکتا۔ دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے سے کشیدگی چلی آ رہی ہے اور حالیہ بیانات نے اس کشیدگی میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ خطے میں امن و امان کے قیام اور تنازعات کے پرامن حل کے لیے سفارتی ذرائع کا استعمال ضروری ہے، تاہم باضابطہ چینلز کے فقدان کی وجہ سے رابطے بحال ہونے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ایران نے دوٹوک الفاظ میں واضح کر دیا ہے کہ فی الحال کسی بھی قسم کے مذاکرات کا کوئی امکان موجود نہیں ہے اور جب تک بنیادی پالیسیوں میں تبدیلی نہیں آتی، حالات ایسے ہی رہیں گے۔