LIVE
Loading Breaking News...

برطانیہ میں بچوں کی ویکسینیشن میں کمی کی وجوہات اور کلینک کے اقدامات

News Image
برطانیہ بھر میں بچوں کی حفاظتی ٹیکہ جات کی شرح میں کمی تشویشناک صورتحال اختیار کرتی جا رہی ہے، جس کے پیچھے صرف سوشل میڈیا کا کردار نہیں بلکہ زمینی حقائق کچھ اور ہیں۔ مغربی یارکشائر کا ایک کلینک اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے انتہائی اہم اور متحرک اقدامات اٹھا رہا ہے۔
برطانیہ بھر میں بچوں کی حفاظتی ٹیکہ جات یا امیونائزیشن کی شرح میں بتدریج کمی دیکھنے میں آ رہی ہے، جس نے طبی ماہرین اور حکومت کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ اس کمی کے پیچھے سوشل میڈیا پر پھیلنے والی طبی غلط معلومات اور افواہیں ہیں، تاہم ماہرین کا ماننا ہے کہ اس مسئلے کی جڑیں اس سے کہیں زیادہ گہری اور مختلف ہیں۔ رس رسائی کی کمی، مصروف ترین خاندانی نظام اور طبی عملے کی کمی جیسے عوامل اس صورتحال کے بڑے محرک ہیں۔ اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے مغربی یارکشائر کا ایک مقامی ہیلتھ کلینک انتہائی جارحانہ اور عملی اقدامات اٹھا رہا ہے تاکہ بچوں کی صحت کو یقینی بنایا جا سکے۔ کلینک کی انتظامیہ نے والدین کے ساتھ براہ راست رابطہ کرنے اور ان کے خدشات کو دور کرنے کے لیے خصوصی مہم کا آغاز کیا ہے۔ اس اقدام کے تحت گھر گھر جاکر آگاہی فراہم کرنے کے علاوہ کلینک کے اوقات کار میں بھی توسیع کی گئی ہے تاکہ کام کرنے والے والدین اپنے بچوں کو آسانی سے ویکسین لگوا سکیں۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ حفاظتی ٹیکے بچوں کو خسرہ، پولیو اور دیگر مہلک بیماریوں سے بچانے کے لیے بنیادی ڈھال کی حیثیت رکھتے ہیں، اور اس شرح میں مزید گراوٹ معاشرے کے لیے ایک بڑا خطرہ بن سکتی ہے۔ مقامی سطح پر شروع کی جانے والی ان کوششوں کو طبی حلقوں میں سراہا جا رہا ہے، تاہم ملک گیر سطح پر ایک جامع حکمت عملی کی ضرورت اب بھی محسوس کی جا رہی ہے تاکہ ہر بچے تک حفاظتی ٹیکوں کی رسائی کو یقینی بنایا جا سکے۔