World
یورپی یونین کا سیوطہ واقعہ پر سرحدیں مضبوط کرنے کا مطالبہ
یورپی کمیشن کی صدر ارسولا وان ڈیر لیین نے سیوطہ میں مہاجرین کے داخلے کے بعد سرحدوں کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا ہے۔ یورپی یونین کے وزرائے داخلہ کا ایک ہنگامی اجلاس بھی اس اہم معاملے پر بلایا گیا ہے۔
برسلز: یورپی یونین کی اعلیٰ قیادت نے ہسپانوی انکلیو سیوطہ میں مہاجرین کی اچانک اور بڑی تعداد میں آمد کے بعد یورپی سرحدوں کو مزید مضبوط اور محفوظ بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔ یورپی کمیشن کی صدر ارسولا وان ڈیر لیین نے اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری عملی اقدامات پر زور دیا ہے۔ ان کا یہ بیان یورپی یونین کے وزرائے داخلہ کے ایک اہم اور ہنگامی اجلاس سے قبل سامنے آیا ہے جس میں رکن ممالک کے سیکیورٹی امور اور سرحدی انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔
حالیہ دنوں میں سیوطہ کے مقام پر مہاجرین کی کثیر تعداد کی آمد نے ایک بار پھر یورپی یونین کے اندر مہاجرین کے بحران اور سرحدی کنٹرول کے تنازع کو ہوا دی ہے۔ یورپی حکام کا ماننا ہے کہ غیر قانونی ہجرت کے بڑھتے ہوئے دباؤ سے نمٹنے کے لیے اجتماعی حکمت عملی ناگزیر ہے۔ ارسولا وان ڈیر لیین نے اس بات پر زور دیا کہ یورپی یونین کو اپنی بیرونی سرحدوں کی نگرانی کو مزید موثر بنانا ہوگا تاکہ مستقبل میں اس قسم کے ناگہانی چیلنجز کا پیشہ ورانہ انداز میں مقابلہ کیا جا سکے اور سیکیورٹی خدشات کو کم کیا جا سکے۔
توقع کی جا رہی ہے کہ ہنگامی اجلاس میں یورپی یونین کے وزرائے داخلہ رکن ممالک کے درمیان باہمی تعاون بڑھانے، بارڈر سیکیورٹی فورسز کو مزید وسائل فراہم کرنے اور تارکین وطن کے انتظام کے لیے نئے لائحہ عمل پر غور کریں گے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یورپ میں داخل ہونے والے ان راستوں پر کڑی نظر رکھنا یورپی یونین کی ترجیحات میں سرفہرست ہے، تاہم انسانی حقوق کی تنظیمیں اور امدادی ادارے مہاجرین کے ساتھ منصفانہ اور انسانی رویے کو یقینی بنانے پر بھی زور دے رہے ہیں۔ اجلاس کے بعد یورپی یونین کی جانب سے ایک جامع پالیسی اعلان متوقع ہے۔