Business
امریکہ میں پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ اور تیل کمپنیوں کے منافع
امریکہ میں پٹرول کی بلند قیمتوں نے کم آمدنی والے خاندانوں کا بجٹ شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔ اس بحران کے دوران عالمی تیل کی بڑی کمپنیوں کے منافع میں بے پناہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
امریکہ میں پٹرول اور فیول کی مسلسل بڑھتی ہوئی قیمتوں نے عام شہریوں اور خاص طور پر کم آمدنی والے گھرانوں کی مالی مشکلات میں ہوشربا اضافہ کر دیا ہے۔ ملک بھر میں ایندھن کے نرخ بلند ہونے کی وجہ سے روزمرہ کی زندگی شدید متاثر ہو رہی ہے اور عوام کا ماہانہ بجٹ بری طرح لڑکھڑا گیا ہے۔ ماہرین معاشیات کے مطابق موجودہ معاشی صورتحال میں سب سے زیادہ بوجھ نچلے طبقے اور ان خاندانوں پر پڑ رہا ہے جن کی آمدنی محدود ہے۔
حالیہ رپورٹس کے مطابق امریکہ میں کم آمدنی والے خاندان اپنی ماہانہ آمدنی کا دس فیصد سے زائد حصہ صرف پٹرول اور ٹرانسپورٹ کی مد میں خرچ کرنے پر مجبور ہیں۔ روزمرہ کی آمدورفت، نوکریوں پر جانے اور اشیائے ضروریہ کی نقل و حمل کے لیے گاڑیوں کا استعمال ناگزیر ہے، جس کی وجہ سے شہریوں کے پاس پٹرول خریدنے کے سوا کوئی چارہ نہیں بچا۔ اس مجبوری کے باعث عام شہریوں کی بچت ختم ہو چکی ہے اور وہ شدید مالی تناؤ کا شکار ہیں۔
ایک ایسے وقت میں جب عام امریکی شہری مہنگائی کے اس طوفان سے نبردآزما ہے، دنیا کے نامور تیل اور گیس کے ادارے اس صورتحال سے بھرپور فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ نامور تیل کمپنیاں جیسے کہ شیورون اور ایکسائن کے منافع میں آسمان چھوتی بلندیاں دیکھی گئی ہیں۔ ان کارپوریشنز نے پٹرول کی بلند قیمتوں کے تناظر میں اربوں ڈالر کا منافع کمایا ہے، جس پر اب عوامی اور سیاسی حلقوں کی طرف سے شدید تنقید کی جا رہی ہے۔
اس تضاد نے امریکہ میں ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے جہاں ایک طرف غریب اور متوسط طبقہ مہنگائی کی چکی میں پس رہا ہے، وہیں دوسری طرف توانائی کے بڑے ادارے ریکارڈ منافع سمیٹ رہے ہیں۔ معاشی ماہرین اور عوامی نمائندگان حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ توانائی کے شعبے میں اس منافع خوری کو روکا جائے اور عام شہریوں کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ معاشرے کے کمزور طبقے کو اس معاشی بحران سے نکالا جا سکے۔