LIVE
Loading Breaking News...

امتحانات میں بدعنوانی: طلبا نہیں والدین ذمہ دار ہیں، اسحاق اولویڈ

News Image
جوائنٹ ایڈمیشنز اینڈ میٹرکولیشن بورڈ (JAMB) کے سابق رجسٹرار پروفیسر اسحاق اولویڈ نے کہا ہے کہ امتحانات میں نقل اور بدعنوانی کی اصل جڑ طلبا نہیں بلکہ والدین ہیں۔ انہوں نے اس صورتحال کو اپنے دورِ عہد کا سب سے تکلیف دہ تجربہ قرار دیا ہے۔
جوائنٹ ایڈمیشنز اینڈ میٹرکولیشن بورڈ (JAMB) کے سابق رجسٹرار پروفیسر اسحاق اولویڈ نے ایک اہم اور چونکا دینے والے انکشاف میں کہا ہے کہ امتحانات میں ہونے والی بدعنوانیوں اور نقل کے پیچھے اصل ذمہ دار طلبا نہیں بلکہ ان کے اپنے والدین ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ صورتحال ان کے پورے دورِ کار کا سب سے زیادہ تکلیف دہ اور مایوس کن تجربہ رہی ہے۔ پروفیسر اسحاق اولویڈ نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ کس طرح کچھ والدین اپنے بچوں کو شارٹ کٹ کے ذریعے کامیاب کرانے کے لیے غیر قانونی ہتھکنڈوں کا سہارا لیتے ہیں اور اس عمل میں وہ خود اپنے بچوں کا مستقبل تباہ کر رہے ہوتے ہیں۔ پروفیسر اولویڈ کے مطابق، معاشرتی دباؤ اور نام نہاد کامیابی کی ہوس نے والدین کو اس بات پر مجبور کر دیا ہے کہ وہ امتحانات میں بدعنوانی کے مکروہ دھندے کا حصہ بنیں۔ وہ نہ صرف نقل کے طریقوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں بلکہ بعض اوقات اس میں براہ راست ملوث بھی پائے جاتے ہیں۔ یہ رویہ نہ صرف تعلیمی نظام کی بنیادوں کو کھوکھلا کر رہا ہے بلکہ نوجوان نسل کو محنت اور ایمانداری کی بجائے دھوکہ دہی کا درس دے رہا ہے۔ ماہرینِ تعلیم نے بھی اس بیان کی تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک گھر کی سطح پر بچوں کی درست تربیت نہیں کی جاتی اور محنت کی اہمیت کو اجاگر نہیں کیا جاتا، معاشرے سے اس ناسور کا خاتمہ ناممکن ہے۔ اسحاق اولویڈ نے اپنے تجربات کا حوالہ دیتے ہوئے مزید کہا کہ تعلیمی اداروں میں شفافیت کو یقینی بنانا ایک بڑا چیلنج ہے، اور اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے صرف انتظامی اقدامات کافی نہیں ہیں بلکہ معاشرتی رویوں بالخصوص والدین کی سوچ میں تبدیلی لانا انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ والدین کو اپنے بچوں پر اندھی تقلید اور نمبروں کے حصول کا دباؤ ڈالنے کے بجائے ان کی صلاحیتوں پر بھروسہ کرنا چاہیے۔ اگر والدین خود ہی بدعنوانی کا حصہ بن جائیں گے تو ملک کا روشن مستقبل تاریک ہو جانے کا خدشہ ہے۔ تعلیمی حلقوں میں اس بیان کے بعد ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے اور مختلف طبقات کی جانب سے اس پر گہرے دکھ اور تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ امتحانات میں شفافیت بحال رکھنے کے لیے سخت قوانین کے ساتھ ساتھ آگاہی مہمات چلائی جائیں جن میں والدین کی کونسلنگ پر خصوصی توجہ دی جائے۔ اس سے نہ صرف تعلیمی نظام بہتر ہوگا بلکہ ایک دیانتدار اور محنتی معاشرے کی بنیاد بھی مضبوط ہوگی۔