Business
مضبوط مالیاتی پوزیشن کے ساتھ ریٹائرمنٹ پلاننگ اور 401(k) کی اہمیت
ایک مالیاتی جوڑے کے پاس ڈھائی ملین ڈالر کی مجموعی مالیت اور ایک چھوٹے موٹرگیج کے علاوہ کوئی قرض نہیں ہے، جو اپنی ریٹائرمنٹ پلاننگ کے حوالے سے اب بھی تذبذب کا شکار ہیں۔ ماہرین معاشیات نے انہیں مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنی موجودہ بچت اور سرمایہ کاری کی حکمت عملی کو برقرار رکھیں۔
ذاتی مالیات کے ماہرین اکثر ایسے جوڑوں کی تعریف کرتے ہیں جو اپنے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے سخت مالیاتی اصولوں پر عمل کرتے ہیں۔ ایسا ہی ایک جوڑا اس وقت اپنی شاندار مالیاتی پوزیشن کے باوجود اس مخمصے کا شکار ہے کہ آیا انہیں اپنے ریٹائرمنٹ اکاؤنٹس، خاص طور پر 401(k) میں زیادہ سے زیادہ رقم جمع کروانا جاری رکھنا چاہیے یا نہیں۔ پینتالیس سال سے زائد عمر کے اس جوڑے کے پاس مجموعی طور پر ڈھائی ملین ڈالر کے اثاثے موجود ہیں، جبکہ ان کے ذمے صرف ایک لاکھ بیس ہزار ڈالر کا ہوم لون یا موٹرگیج باقی ہے۔ انہوں نے اپنی زندگی میں ہمیشہ دانشمندانہ فیصلے کیے ہیں اور فضول خرچی سے گریز کیا ہے۔ موجودہ دور میں جہاں بیشتر لوگ قرضوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں، اس جوڑے کا تقریباً قرض سے پاک ہونا ان کے مالیاتی نظم و ضبط کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ تاہم، اب وہ یہ سوچ رہے ہیں کہ اتنی بڑی نیٹ ورتھ بنانے کے بعد بھی کیا انہیں اپنے ٹیکس ایڈوانسڈ اکاؤنٹس میں مزید رقم جھونکنی چاہیے یا انہیں اپنی حکمت عملی میں کچھ تبدیلی لانی چاہیے۔ مالیاتی مشیروں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے سوالات عموماً ایسے لوگوں کے ذہن میں آتے ہیں جو اپنے مستقبل کے حوالے سے حد سے زیادہ محتاط ہوتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق، اگرچہ ان کی موجودہ پوزیشن انتہائی مستحکم ہے، لیکن 401(k) جیسے اکاؤنٹس میں سرمایہ کاری جاری رکھنا نہ صرف ٹیکس کی بچت میں مددگار ثابت ہوتا ہے بلکہ یہ طویل المدتی سرمائے کو بڑھانے کا ایک بہترین ذریعہ بھی ہے۔ ریٹائرمنٹ کے قریب پہنچنے والے افراد کے لیے یہ اکاؤنٹس ایک حفاظتی ڈھال کا کام کرتے ہیں، اس لیے ماہرین نے انہیں یہی مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنے اس معمول کو جاری رکھیں تاکہ وہ مستقبل میں کسی بھی ناگہانی معاشی صورتحال سے محفوظ رہ سکیں۔