LIVE
Loading Breaking News...

نئے صوبوں کے قیام کا مطالبہ اور سیاسی مخالفت

News Image
وفاقی وزیر کی طرف سے نئے صوبوں کے قیام کا مطالبہ سامنے آنے کے بعد ملک بھر کی سیاسی جماعتوں کی طرف سے شدید ردعمل ظاہر کیا جا रहा ہے۔ اس اہم معاملے پر اتحادی جماعتوں اور اپوزیشن کے درمیان نئی بحث چھڑ گئی ہے۔
پاکستان کے سیاسی منظر نامے میں ایک بار پھر اس وقت ہلچل مچ گئی جب نئے صوبوں کے قیام کا معاملہ شدت کے ساتھ اٹھایا گیا۔ اس تجویز کے سامنے آنے کے فورا بعد ملک بھر کے سیاسی حلقوں میں اس پر گرما گرم بحث شروع ہو گئی ہے اور مختلف جماعتوں کی جانب سے اس کی مخالفت میں بیانات سامنے آ رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق انتظامی بنیادوں پر صوبوں کی تقسیم کا یہ دیرینہ مسئلہ ہمیشہ سے حساس نوعیت کا حامل رہا ہے جس پر تمام اسٹیک ہولڈرز کے درمیان اتفاق رائے پیدا کرنا انتہائی مشکل امر سمجھا جاتا ہے۔ حالیہ پیش رفت کے بعد مختلف سیاسی رہنماؤں نے اپنے اپنے مؤقف کا کھل کر اظہار کیا ہے۔ ایک طرف جہاں کچھ حلقے انتظامی بہتری اور عوام کو ریلیف دینے کے لیے نئے انتظامی یونٹس یا صوبوں کے قیام کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیتے ہیں، وہیں دوسری طرف کئی بڑی جماعتیں اس اقدام کو سیاسی تقسیم اور پیچیدگیاں بڑھانے کے مترادف قرار دے رہی ہیں۔ ان جماعتوں کا مؤقف ہے کہ اس وقت ملک کو پہلے ہی شدید معاشی اور انتظامی چیلنجز کا سامنا ہے، اس لیے اس قسم کے حساس آئینی اور انتظامی معاملات پر جلد بازی میں کوئی بھی قدم اٹھانے سے گریز کیا جانا چاہیے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آئین پاکستان کے تحت نئے صوبوں کے قیام کے لیے پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت اور متعلقہ صوبائی اسمبلی کی منظوری جیسے کٹھن مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔ ماضی میں بھی اس حوالے سے کئی قراردادیں اور تجاویز سامنے آئیں لیکن سیاسی رسہ کشی اور مفادات کے ٹکراؤ کی وجہ سے کوئی بھی عملی پیش رفت نہیں ہو سکی۔ موجودہ مخالفت سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ آنے والے دنوں میں یہ موضوع پارلیمنٹ کے اندر اور باہر ایک اہم سیاسی بحث کا مرکز بنا رہے گا، جس پر مزید سیاسی جوڑ توڑ کی توقع کی جا رہی ہے۔