LIVE
Loading Breaking News...

یورپی یونین کا سرحدوں کی مضبوطی کا مطالبہ اور اسپین میں مہاجرین کا بحران

News Image
مراکش سے ہزاروں مہاجرین کی اسپین کے علاقے سیوستا آمد کے بعد یورپی یونین نے سرحدوں کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا ہے۔ اس سرحدی لہر کے دوران کم از کم 72 افراد کے جاں بحق ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
یورپی یونین نے مراکش سے اسپین کے خودمختار علاقے سیوستا میں ہزاروں مہاجرین کی غیر معمولی آمد کے بعد سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے یورپی سرحدوں کو مزید مضبوط بنانے کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔ حالیہ دنوں میں پیش آنے والے اس بڑے سرحدی واقعے نے پورے خطے میں تارکینِ وطن کے بحران کو ایک بار پھر سرِ فہرست لا کھڑا کیا ہے۔ برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹس کے مطابق اس ہنگامہ خیز سرحدی رش اور دھکم پیل کے دوران کم از کم 72 افراد کے جان کی بازی ہار جانے کی افسوسناک اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جس سے انسانی المیے کی سنگین نوعیت واضح ہوتی ہے۔ سیوستا کے مقامی رہنماؤں کی جانب سے مراکش کی انتظامیہ پر سخت تنقید کی گئی ہے اور اس بڑے پیمانے پر غیر قانونی سرحدی عبور کرنے کے واقعے کو ایک ہولناک فعل قرار دیا گیا ہے۔ مقامی حکام کا کہنا ہے کہ اس ناگہانی لہر نے سکیورٹی انتظامات کو شدید دباؤ میں ڈال دیا تھا اور علاقائی انتظامیہ اس کے اثرات سے نمٹنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ اگرچہ زیادہ تر مہاجرین بعد میں اسپین کے اس علاقے کو چھوڑ چکے ہیں تاہم اس کے طویل المدتی سیاسی اور انتظامی اثرات کے حوالے سے گہری تشویش پائی جا رہی ہے۔ اس صورتحال کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے یورپی یونین نے ایک ہنگامی اجلاس طلب کیا ہے جس کا بنیادی مقصد اس بحران پر قابو پانا اور مستقبل میں اس قسم کے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر لائحہ عمل تیار کرنا ہے۔ اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ یورپی ممالک کو اپنی بیرونی سرحدوں کی نگرانی کو مزید سخت کرنا ہوگا تاکہ غیر قانونی ہجرت کے بڑھتے ہوئے سیلاب کو روکا جا سکے اور انسانی جانوں کے ضیاع کو یقینی طور پر ٹالا جا سکے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ اس واقعے کے بعد اسپین اور مراکش کے تعلقات کے ساتھ ساتھ یورپی سطح پر بھی ہجرت کی پالیسیوں میں نمایاں تبدیلیاں دیکھنے میں آ سکتی ہیں۔