LIVE
Loading Breaking News...

عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ: الٹرا پروسیسڈ فوڈ کمپنیوں کا ممالک پر مقدمات کا انکشاف

News Image
عالمی ادارہ صحت (WHO) کی جانب سے انکشاف کیا گیا ہے کہ الٹرا پروسیسڈ فوڈ کمپنیاں صحت عامہ کی بہتری کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں۔ یہ کمپنیاں مختلف ممالک کی حکومتوں پر مقدمات دائر کر کے صحت مند غذائی پالیسیوں کو کمزور کر رہی ہیں۔
عالمی ادارہ صحت (WHO) نے ایک اہم اور تشویشناک انکشاف کیا ہے کہ بڑی الٹرا پروسیسڈ فوڈ کمپنیاں صحت عامہ کے فروغ کے لیے اٹھائے جانے والے حکومتی اقدامات میں جان بوجھ کر رکاوٹیں کھڑی کر رہی ہیں۔ یہ کمپنیاں صحت مند غذائی پالیسیوں کو متاثر کرنے کے لیے دنیا بھر کے مختلف ممالک پر قانونی مقدمات دائر کر رہی ہیں تاکہ ان کی مصنوعات پر لگنے والی پابندیوں یا ٹیکسوں کو روکا جا سکے۔ دی گارڈین کی رپورٹ کے مطابق یہ کارروائیاں اس بات کو ظاہر کرتی ہیں کہ کارپوریٹ مفادات انسانی صحت پر فوقیت حاصل کر رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں غیر صحت بخش کھانوں، جن میں جنک فوڈ اور الٹرا پروسیسڈ اشیاء شامل ہیں، کے استعمال کی وجہ سے موٹاپا، ذیابیطس اور دل کی بیماریاں تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔ ان بیماریوں پر قابو پانے کے لیے مختلف ممالک کی حکومتیں سخت قوانین بنا رہی ہیں اور عوام کو صحت مند غذا کی طرف راغب کرنے کے لیے آگاہی مہمات چلا رہی ہیں۔ تاہم، بڑی فوڈ انڈسٹریز ان پالیسیوں کے نفاذ کو روکنے کے لیے قانونی چارہ جوئی کا سہارا لے رہی ہیں، جس سے سرکاری سطح پر صحت عامہ کے منصوبے سست پڑ رہے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا ہے کہ اگر ان کارپوریٹ اداروں کے دباؤ کا مقابلہ نہ کیا گیا تو آنے والے دنوں میں عالمی سطح پر صحت کے بحران مزید سنگین ہو سکتے ہیں۔ تنظیم نے تمام رکن ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ عوامی مفاد کو مقدم رکھتے ہوئے مضبوط پالیسیاں بنائیں اور کارپوریٹ دباؤ کے سامنے ہرگز نہ جھکیں۔ ماہرین صحت نے بھی اس بات کی تائید کی ہے کہ حکومتوں کو عوامی صحت کے تحفظ کے لیے سخت ضابطے نافذ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ آنے والی نسلوں کو خطرناک بیماریوں سے بچایا جا سکے۔