LIVE
Loading Breaking News...

ٹرمپ کے قریبی حلیفوں کی حمایت میں کمی، سیاسی مشکلات کا جائزہ

News Image
امریکی سیاست پر اپنی مرضی مسلط کرنے کے عادی ڈونلڈ ٹرمپ کو چند دنوں میں دو بڑے سیاسی دھچکے برداشت کرنا پڑے ہیں۔ ان کے قریبی حلیفوں نے ان کی ذاتی سیاسی لڑائیوں کی کھل کر حمایت کرنے سے گریز کیا ہے جس سے ٹرمپ کی پریشانی میں اضافہ ہوا ہے۔
ایک ایسے وقت میں جب امریکی صدر یا سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہمیشہ سے امریکی سیاست کو اپنی مرضی کے مطابق ڈھالنے کے لیے جانے جاتے ہیں، انہیں حال ہی میں چند دنوں کے اندر دو اہم اور شدید نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ بی بی سی کی ایک تجزیاتی رپورٹ کے مطابق، یہ صورتحال اس بات کی غماز ہے کہ ٹرمپ کی روایتی سیاسی گرفت اب پہلے جیسی مضبوط نہیں رہی اور ان کے اپنے قریبی حلیف بھی اب ان کے ہر فیصلے یا ذاتی جنگ میں کھل کر ساتھ دینے سے کترانے لگے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کو جن حالیہ مسائل کا سامنا کرنا پڑا ہے، انہوں نے واشنگٹن کے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ جو رہنما ماضی میں ہر قیمت پر ٹرمپ کا دفاع کرنے کے لیے تیار رہتے تھے، اب وہ اپنی سیاسی بقا اور مستقبل کے پیش نظر ہوشیار ہو گئے ہیں۔ جب حلیف جماعت کے رہنما ذاتی تنازعات اور محاذ آرائی سے پیچھے ہٹنے لگیں، تو کسی بھی بڑے رہنما کے لیے اپنے مؤقف کو منوانا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے، اور یہی صورتحال اس وقت ڈونلڈ ٹرمپ کو درپیش ہے۔ اس تبدیلی نے ریپبلکن پارٹی کے اندرونی توازن کو بھی متاثر کیا ہے۔ اگرچہ ٹرمپ کی مقبولیت کا نچلا ووٹر بیس اب بھی برقرار ہے، لیکن پارٹی کی اعلیٰ قیادت اور پالیسی سازوں کے رویے میں واضح لچک اور احتیاط دیکھی جا سکتی ہے۔ یہ پیش رفت اس بات کا اشارہ ہے کہ آنے والے دنوں میں امریکی سیاسی منظرنامہ مزید پیچیدہ ہو سکتا ہے، جہاں ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنے ذاتی مقاصد کے حصول کے لیے پہلے سے کہیں زیادہ سخت سیاسی اور قانونی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا۔