Education
اسکولوں میں زن بیزاری اور ریپ لسٹ کے خلاف نو عمر لڑکیوں کی فلم
برطانیہ میں نو عمر لڑکیوں کے ایک گروپ نے اسکولوں میں اپنے تلخ تجربات اور زن بیزاری پر مبنی رویوں کو اجاگر کرنے کے لیے ایک دستاویزی فلم بنائی ہے۔ نصاب میں متوقع تبدیلیوں سے قبل سامنے آنے والی اس فلم میں اسکول کی سطح پر جنسی ہراسانی اور نام نہاد ’ریپ لسٹ‘ جیسے مسائل کو بے نقاب کیا گیا ہے۔
برطانیہ کے تعلیمی اداروں میں زیرِ تعلیم نو عمر لڑکیوں نے اسکولوں کے اندر موجود زن بیزاری اور نام نہاد ’ریپ لسٹ‘ جیسی خطرناک روایات کے خلاف ایک مؤثر دستاویزی فلم تیار کی ہے۔ یہ فلم ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حکومت اور تعلیمی بورڈز کی جانب سے نصاب میں اہم تبدیلیاں کرنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں تاکہ طلباء کو صنفی مساوات اور احترامِ انسانیت کے بارے میں بہتر تعلیم دی جا سکے۔ لڑکیوں کے اس گروپ نے اپنے ذاتی اور روزمرہ کے تجربات کو اس فلم کی بنیاد بنایا ہے، جس میں انہوں نے بتایا کہ کس طرح تعلیمی اداروں میں انہیں مختلف قسم کے امتیازی سلوک اور نامناسب رویوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
فلم میں خاص طور پر اس رجحان پر روشنی ڈالی گئی ہے جہاں کچھ طلباء کی جانب سے اسکول کی سطح پر ایسی فہرستیں بنائی جاتی ہیں جو لڑکیوں کے لیے انتہائی تضحیک آمیز اور خوفزدہ کرنے والی ہوتی ہیں۔ اس قسم کے اقدامات نہ صرف لڑکیوں کی ذہنی صحت پر منفی اثرات مرتب کرتے ہیں بلکہ ان کے تعلیمی ماحول کو بھی غیر محفوظ بنا دیتے ہیں۔ فلمساز نو عمر لڑکیوں کا کہنا ہے کہ وہ خاموش نہیں رہنا چاہتیں اور چاہتی ہیں کہ اساتذہ، والدین اور پالیسی ساز ادارے اس مسئلے کی سنگین نوعیت کو سمجھیں تاکہ تعلیمی اداروں میں ایک محفوظ اور منصفانہ ماحول کو یقینی بنایا جا سکے۔
ماہرینِ تعلیم اور سماجی حلقوں کی جانب سے اس اقدام کو زبردست سراہا گیا ہے اور اسے ایک اہم آواز قرار دیا گیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اسکولوں میں جنسی ہراسانی اور توہین آمیز رویوں کو طویل عرصے تک نظر انداز کیا جاتا رہا ہے، جس کی وجہ سے مجرموں کے حوصلے بلند ہوتے ہیں۔ نئی نصابی اصلاحات کے تحت اس بات پر زور دیا جا رہا ہے کہ بچوں کو چھوٹی عمر سے ہی باہمی احترام، رضامندی (Consent) اور صنفی مساوات کے بارے میں تعلیم دی جائے تاکہ اسکولوں کو ہر قسم کے تعصب اور خوف سے پاک کیا جا سکے۔