Politics
ٹرمپ انتظامیہ پر 25 ریاستوں کا مقدمہ، نئے ٹیرف کو چیلنج
امریکہ کی پچیس ریاستوں نے ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کرنے کے خلاف وفاقی عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا ہے۔ ان ریاستوں کا موقف ہے کہ یہ نئے ٹیکس دراصل ان محصولات کو دوبارہ نافذ کرنے کا ایک بہانہ ہیں جنہیں سپریم کورٹ پہلے ہی غیر قانونی قرار دے چکی ہے۔
امریکہ کی 25 ریاستوں نے متفقہ طور پر ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف وفاقی عدالت میں ایک بڑا مقدمہ دائر کر دیا ہے جس میں تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کرنے کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا ہے۔ دائر کردہ مقدمے کے مطابق، ان ریاستوں نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے عائد کردہ یہ نئے محصولات دراصل ماضی کے ان ٹیرفز کو گھما پھرا کر دوبارہ نافذ کرنے کا ایک بہانہ ہیں، جنہیں اس سے قبل ملک کی سب سے بڑی عدالت یعنی سپریم کورٹ نے غیر قانونی قرار دے دیا تھا۔ اس قانونی چارہ جوئی سے واشنگٹن کی تجارتی پالیسیوں پر ایک بار پھر شدید دباؤ بڑھ گیا ہے اور قانونی و سیاسی حلقوں میں ہلچل مچ گئی ہے۔ ریاستوں کے اٹارنی جنرلز کا کہنا ہے کہ اس طرح کے یکطرفہ اقدامات سے ملکی معیشت، سپلائی چین اور بین الاقوامی تجارت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ رہا ہے، جس سے عام امریکی شہریوں کے لیے مہنگائی میں بھی اضافہ ہوگا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ انتظامیہ کو آئینی حدود میں رہتے ہوئے فیصلے کرنے چاہئیں اور عدلیہ کی طرف سے مسترد کیے گئے فیصلوں کو پچھلے دروازے سے نافذ کرنے کی کوشش نہیں کی جانی چاہیے۔ دوسری جانب، ٹرمپ انتظامیہ کے ترجمانوں نے اس قانونی قدم کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ٹیرف ملکی مفاد اور ملکی صنعتوں کے تحفظ کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ اس پالیسی سے غیر منصفانہ تجارتی طریقوں کا مقابلہ کرنے میں مدد ملے گی اور امریکی ورکرز کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے گا۔ ماہرینِ قانون کے مطابق یہ مقدمہ آنے والے دنوں میں ایک اہم قانونی جنگ کی شکل اختیار کر سکتا ہے، کیونکہ اس میں وفاقی اختیارات اور ریاستی حقوق کے درمیان توازن کا سوال بھی اٹھایا گیا ہے۔ عدالت کی جانب سے اس کیس کی سماعت کے بعد آنے والے فیصلے کے اثرات نہ صرف موجودہ انتظامیہ کی معاشی پالیسیوں پر پڑیں گے بلکہ مستقبل کے تجارتی معاہدوں کی سمت کا تعین بھی اسی سے ہوگا۔