World
وینزویلا زلزلے: ہلاکتیں 6 ہزار سے تجاوز، امدادی سرگرمیاں زیر بحث
وینزویلا میں آنے والے شدید زلزلوں کے نتیجے میں تصدیق شدہ اموات کی تعداد چھ ہزار ایک سو پچیس تک پہنچ گئی ہے۔ قومی اسمبلی کے صدر جارج روڈریگز نے ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے جبکہ حکومتی امدادی کارروائیوں پر عوامی سطح پر کڑے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
لاطینی امریکی ملک وینزویلا میں حالیہ تباہ کن زلزلوں کے بعد صورتحال انتہائی تشویشناک ہوتی جا رہی ہے، جہاں مرنے والوں کی مصدقہ تعداد چھ ہزار ایک سو پچیس سے تجاوز کر چکی ہے۔ اس بات کی تصدیق قومی اسمبلی کے صدر جارج روڈریگز نے کی ہے، جنہوں نے ملک میں اس قدرتی آفت سے ہونے والے جانی و مالی نقصان کو تاریخی قرار دیا ہے۔ ملک کے مختلف حصوں میں زلزلے کے شدید جھٹکوں نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے، جس کے نتیجے میں رہائشی عمارتیں، سڑکیں اور مواصلاتی نظام درہم برہم ہو کر رہ گیا ہے۔ امدادی ٹیمیں ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کے لیے دن رات کام کر رہی ہیں مگر وسائل کی کمی اور تباہ شدہ انفراسٹرکچر کی وجہ سے مشکلات کا سامنا ہے۔
حکومت کی جانب سے شروع کی جانے والی امدادی اور بحالی کی کوششوں کو اس وقت شدید عوامی جانچ پڑتال اور تنقید کا سامنا ہے۔ متاثرہ علاقوں کے مکینوں اور مقامی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ڈیزاسٹر مینجمنٹ کا ردعمل انتہائی سست اور ناکافی ہے، جس کی وجہ سے بروقت امداد اور طبی سہولیات متاثرہ لوگوں تک نہیں پہنچ پا رہیں۔ ہسپتال زخمیوں سے بھر چکے ہیں اور ادویات کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے، جس سے انسانی بحران مزید گہرا ہونے کا خدشہ ہے۔
بین الاقوامی برادری اور فلاحی اداروں نے بھی وینزویلا کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری طور پر امدادی سامان اور طبی ٹیمیں بھیجنے کی پیشکش کی ہے۔ جارج روڈریگز نے کہا ہے کہ حکومت متاثرین کی بحالی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے گی اور کسی بھی غفلت کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ تاہم، زمینی حقائق یہ بتاتے ہیں کہ اس آفت کے اثرات سے نمٹنے اور متاثرہ خاندانوں کی بحالی کے لیے طویل المدتی اور منظم کوششوں کی ضرورت ہوگی، جبکہ حکومتی کارکردگی پر سوالات کا سلسلہ بھی تھمتا دکھائی نہیں دے رہا۔