Technology
اگنی کل کوسموس: بھارت کا پرائیویٹ اسپیس سیکٹر اور تھری ڈی راکٹ
اگنی کل کوسموس کے شریک بانیوں نے اپنے دوسرے مشن اور ری یُوز ایبل راکٹوں کے حوالے سے اہم خیالات کا اظہار کیا ہے۔ اس گفتگو میں تھری ڈی پرنٹنگ کے ذریعے بھارت کے نجی خلائی شعبے میں لائے جانے والے انقلاب پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔
بھارت کے تیزی سے ترقی کرتے ہوئے نجی خلائی شعبے میں اگنی کل کوسموس (AgniKul Cosmos) ایک اہم نام کے طور پر ابھر رہا ہے۔ ایک حالیہ خصوصی گفتگو میں اس کمپنی کے شریک بانی اور چیف ایگزیکٹو آفیسر سری ناتھ روی چندرن اور شریک بانی و چیف آپریٹنگ آفیسر معین ایس پی ایم نے اپنے دوسرے خلائی مشن، ری یُوز ایبل راکٹوں اور خلائی صنعت میں تھری ڈی پرنٹنگ کے انقلابی کردار پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ ان کا کہنا تھا کہ نجی کمپنیوں کی شمولیت سے ملک میں خلائی تحقیق کے دروازے مزید کھل رہے ہیں اور لاگت میں نمایاں کمی آ رہی ہے۔
گفتگو کے دوران اس بات پر زور دیا گیا کہ روایتی مینوفیکچرنگ کے مقابلے میں تھری ڈی پرنٹنگ ٹیکنالوجی راکٹ انجنوں کی تیاری کے عمل کو نہ صرف تیز کرتی ہے بلکہ اسے انتہائی لچکدار اور کم خرچ بھی بناتی ہے۔ اگنی کل کوسموس جیسی کمپنیاں اس جدید ٹیکنالوجی کا بھرپور استعمال کر رہی ہیں تاکہ خلائی سفر کو زیادہ سستا اور قابل رسائی بنایا جا سکے۔ ان تکنیکی ترقیوں کی بدولت بھارت اب عالمی سطح پر پرائیویٹ ایرو اسپیس مارکیٹ میں ایک اہم حریف کے طور پر اپنی شناخت بنا رہا ہے۔
کمپنی کے رہنماؤں نے 'مشن ٹو' کے حوالے سے بھی اپنے عزائم کا اظہار کیا اور بتایا کہ کس طرح ان کے ری یُوز ایبل راکٹ لانچ سسٹم مستقبل کے خلائی سفر کا نقشہ بدل دیں گے۔ بار بار استعمال ہونے والے راکٹ نہ صرف خلائی کچرے کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں بلکہ لانچنگ کے مالی اخراجات کو بھی انتہائی نچلی سطح پر لے آتے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگنی کل کوسموس کا یہ سفر آنے والے وقتوں میں بھارت کی نجی خلائی صنعت کو دنیا کی صف اول کی صفوں میں لا کھڑا کرے گا۔