Technology
امریکہ: پروفیسر نے طلبہ کی جانب سے اے آئی کے ذریعے نقل کا طریقہ بے نقاب کردیا
امریکہ کی مسس سپی یونیورسٹی کے ایک پروفیسر جیسن گبسن نے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز کے ذریعے طلبہ کی جانب سے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے استعمال سے امتحانات اور اسائنمنٹس میں نقل کرنے کے طریقوں کو بے نقاب کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کس طرح ہوشیار طلبہ اے آئی ٹولز کا غلط استعمال کرتے ہوئے اپنے اسائنمنٹس مکمل کر رہے ہیں جس نے تعلیمی اداروں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
امریکہ کی مسس سپی ریاست سے تعلق رکھنے والے کالج کے ایک پروفیسر نے حال ہی میں سوشل میڈیا پر اس وقت تہلکہ مچا دیا جب انہوں نے طلبہ کی جانب سے مصنوعی ذہانت (اے آئی) یعنی اے آئی ٹولز کا استعمال کرتے ہوئے اسائنمنٹس میں نقل کرنے کا انوکھا اور چھپا ہوا طریقہ دنیا کے سامنے رکھا۔ پروفیسر جیسن گبسن نے ویڈیو شیئرنگ پلیٹ فارم ٹک ٹاک پر ایک سلسلہ شروع کیا جس میں انہوں نے بتایا کہ کس طرح طلبہ اپنے تعلیمی کاموں میں شارٹ کٹ تلاش کرنے کے لیے جدید ترین ٹیکنالوجی کا غلط فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ جیسن گبسن کی یہ ویڈیوز دیکھتے ہی دیکھتے انٹرنیٹ پر وائرل ہو گئیں اور پوری دنیا کے تعلیمی حلقوں میں اس پر تشویش کا اظہار کیا جانے لگا۔ وائرل ہونے والی ویڈیوز میں پروفیسر جیسن گبسن نے تفصیل سے بتایا کہ جدید اے آئی ماڈلز اور چیٹ بوٹس طلبہ کو کس طرح ہوشیار، جاندار اور بظاہر انسان کے لکھے ہوئے مضامین پلک جھپکتے ہی تیار کر کے دے دیتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ طلبہ نے اس میں بھی نئی راہیں نکال لی ہیں اور وہ اب اے آئی کے تحریر کردہ متن میں کچھ ایسی تبدیلیاں کرتے ہیں تاکہ اساتذہ یا اینٹی پلگزم سافٹ ویئر کی نظروں سے بچ سکیں۔ پروفیسر نے اپنی ویڈیوز کے ذریعے تعلیمی اداروں کو خبردار کیا ہے کہ روایتی جانچ کے طریقے اب ناکافی ہوتے جا رہے ہیں اور اساتذہ کو اپنے نصاب اور پرکھنے کے معیار میں تبدیلی لانے کی سخت ضرورت ہے۔ اس انکشاف کے بعد سوشل میڈیا پر ایک طویل بحث شروع ہو چکی ہے جہاں ایک طرف تو اساتذہ طلبہ کی اس چالاکی پر پریشان ہیں، وہیں دوسری طرف طلبہ اور تکنیکی ماہرین کے درمیان اے آئی کے تعلیمی استعمال کی حدود اور اخلاقیات پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں اسکولوں اور یونیورسٹیوں کو نقل روکنے کے لیے مزید سخت ڈیجیٹل سیکیورٹی اور پالیسیاں اپنانا ہوں گی تاکہ تعلیم کے معیار کو برقرار رکھا جا سکے اور طلبہ کی حقیقی صلاحیتوں کا اندازہ لگایا جا سکے۔