LIVE
Loading Breaking News...

کچن میں پلاسٹک کے ڈبوں کے خطرات اور ان کی جانچ کا طریقہ

News Image
ماہرین کے مطابق کچن میں عام استعمال ہونے والے پلاسٹک کے ڈبے کھانے میں نقصان دہ کیمیکلز منتقل کر سکتے ہیں۔ آپ صرف تیس سیکنڈ کی ایک آسان جانچ کے ذریعے اپنے کھانوں کو محفوظ بنا سکتے ہیں۔
رات کے آٹھ بج رہے ہیں، آپ تھکے ہوئے اور بھوکے ہیں، اور فریج میں گزشتہ رات کا کھانا اسی ڈبے میں رکھا ہے جس میں وہ گھر آیا تھا۔ آپ ڈبے کو نکالتے ہیں اور دو منٹ کے لیے مائیکرو ویو میں گرم کر کے کھانا شروع کر دیتے ہیں۔ آپ نے یہ عمل زندگی میں ہزاروں بار دہرایا ہوگا اور تقریبا ہر کوئی ایسا ہی کرتا ہے۔ لیکن اصل مسئلہ یہی ہے کہ ہم روزمرہ کی اس عادت کے دوران اپنی صحت کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ کچن میں عام طور پر استعمال ہونے والے پلاسٹک کے بہت سے ڈبے گرم ہونے پر یا زیادہ پرانے ہونے کی وجہ سے کھانوں میں خطرناک کیمیکلز خارج کرتے ہیں۔ جب ہم ان پلاسٹک کنٹینرز میں کھانا گرم کرتے ہیں تو درجہ حرارت بڑھنے کے ساتھ ہی کیمیکل کے ذرات براہ راست ہمارے کھانے میں شامل ہو جاتے ہیں۔ یہ کیمیکل انسانی ہارمونز پر اثر انداز ہو سکتے ہیں اور طویل المدتی بنیادوں پر سنگین صحت کے مسائل کا باعث بنتے ہیں۔ خوش قسمتی سے آپ محض تیس سیکنڈ میں یہ چیک کر سکتے ہیں کہ آیا آپ کا پلاسٹک کا ڈبہ محفوظ ہے یا نہیں۔ اپنے کنٹینر کے نچلے حصے کو دیکھیں جہاں ری سائیکلنگ کا نشان بنا ہوتا ہے۔ اس نشان کے اندر یا نیچے ایک نمبر درج ہوتا ہے، جیسے کہ نمبر 1، 2، 4 یا 5۔ عام طور پر نمبر 5 والے پلاسٹک کو مائیکرو ویو کے لیے زیادہ محفوظ سمجھا جاتا ہے جبکہ دیگر کو کھانے کے لیے دوبارہ استعمال کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔ اس کے علاوہ اگر پلاسٹک کے ڈبے پر سکریچز پڑ چکے ہیں یا وہ پرانا ہو چکا ہے تو اسے فوری طور پر تبدیل کر دینا چاہیے۔ شیشے یا اسٹیل کے برتنوں کا استعمال پلاسٹک کا ایک بہترین اور محفوظ متبادل ہے۔ چھوٹی سی احتیاط اور تیس سیکنڈ کی یہ جانچ آپ اور آپ کے اہل خانہ کو خطرناک کیمیکلز سے محفوظ رکھ سکتی ہے۔