LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ ایران مذاکرات اور آبنائے ہرمز کی صورتحال

News Image
آبنائے ہرمز میں ایک جہاز پر حملے کے بعد امریکہ اور ایران کے مابین مجوزہ مذاکرات کی صورتحال انتہائی غیر یقینی بن گئی ہے۔ تہران نے براہ راست امریکی مذاکرات کی تردید کی ہے جبکہ ٹرمپ کی جانب سے وارننگ بھی سامنے آئی ہے۔
آبنائے ہرمز میں ایک تجارتی جہاز کو نشانہ بنائے جانے کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ مذاکرات کی بحالی کی تمام کوششیں شدید خطرے میں پڑ گئی ہیں۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق حالیہ کشیدگی نے خطے میں جنگ کے بادل دوبارہ گہرے کر دیے ہیں اور سفارتی سطح پر بے یقینی کی فضا قائم ہے۔ امریکی صدر کی جانب سے ایران کو مبینہ طور پر مذاکرات کی پیشکش اور 'آخری موقع' کی وارننگ کے بعد صورتحال میں ڈرامائی تبدیلی آئی ہے، تاہم تہران نے واشنگٹن کے ساتھ کسی بھی قسم کی براہ راست بات چیت کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ ایرانی حکام کا اصرار ہے کہ وہ اس وقت صرف اومان کے توسط سے رابطے میں ہیں لیکن امریکہ کے ساتھ فی الحال کوئی براہ راست مذاکرات نہیں ہو رہے۔ دوسری جانب، آبنائے ہرمز میں جہاز پر حملے کے واقعے کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں اور خطے کی سلامتی کے حوالے سے خدشات میں نمایاں اضافہ ہو چکا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ کی سخت پالیسی اور ایران کی ہارڈ لائن حکمت عملی کے باعث دونوں ممالک کے درمیان سفارتی ڈیڈ لاک ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ اگرچہ خطے کے دیگر ممالک کشیدگی کو کم کرنے کے لیے ثالثی کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں، لیکن زمینی حقائق کے پیش نظر فوری طور پر کسی امن معاہدے یا باضابطہ مذاکرات کے امکانات بہت کم دکھائی دیتے ہیں۔ اس کشیدہ صورتحال پر اقوام متحدہ اور عالمی برادری کی طرف سے بھی گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے اور تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی جا رہی ہے تاکہ خطے کو ایک بڑی جنگ سے بچایا جا سکے، کیونکہ آبنائے ہرمز دنیا بھر میں تیل کی ترسیل کے لیے ایک انتہائی اہم بحری گزرگاہ ہے اور یہاں ہونے والی کسی بھی کشیدگی کا براہ راست اثر عالمی معیشت پر پڑے گا۔