World
غزہ تنازعہ: حماس کے ہتھیار ڈالنے تک اسرائیلی انخلا ناممکن، بورڈ آف پیس
بورڈ آف پیس کے مطابق حماس کے مکمل ہتھیار ڈالنے تک غزہ سے اسرائیلی افواج کا انخلا نہیں ہوگا۔ اس حوالے سے بین الاقوامی سطح پر مختلف امن تجاویز اور زمینی حالات پر غور کیا جا رہا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق بورڈ آف پیس نے واضح کیا ہے کہ حماس کی جانب سے ہتھیار ڈالنے تک غزہ سے کسی بھی اسرائیلی انخلا کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا۔ اس صورتحال نے خطے میں امن کی کوششوں کو ایک نئے موڑ پر لا کھڑا کیا ہے جہاں تمام فریقین اپنے اپنے مؤقف پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ اسرائیلی حکام کی طرف سے بھی یہ واضح کیا جا چکا ہے کہ جب تک حماس کا حقیقی طور پر خاتمہ یا مکمل غیر مسلح ہونا یقینی نہیں بنایا جاتا، تب تک فوجی دستے غزہ سے پچھے نہیں ہٹیں گے۔ دوسری طرف، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پیش کردہ غزہ امن منصوبے پر اسرائیلی ردعمل اب بھی محتاط اور مشکوک دکھائی دے رہا ہے، جبکہ وزیر اعظم بنجمن نیتن ہیتھ کی جانب سے اس معاملے پر طویل خاموشی اور ویک اینڈ پر ہونے والے ہلاکت خیز فضائی حملوں نے صورتحال کو مزید کشیدہ کر دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ غزہ میں دیرپا امن کا خواب اس وقت تک شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا جب تک دونوں اطراف سے سنجیدہ اور قابلِ عمل اقدامات نہ کیے جائیں۔ بین الاقوامی برادری اور ثالثی کرنے والے ممالک اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدے کاغذ پر رہنے کے بجائے زمینی حقائق میں تبدیل ہوں تاکہ عام شہریوں کی مصائب کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔ آنے والے دنوں میں اس امن منصوبے اور بورڈ آف پیس کی کوششوں کے کیا نتائج برآمد ہوتے ہیں، یہ اس بات پر منحصر ہے کہ حماس اور اسرائیل کے درمیان سکیورٹی کے امور پر کیا لائحہ عمل طے پاتا ہے۔