World
جنوبی کوریا میں شدید گرمی کی لہر، 16 اموات اور ہنگامی اقدامات
جنوبی کوریا میں شدید گرمی کی تاریخ ساز لہر کے نتیجے میں اب تک 16 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جبکہ ملک میں درجہ حرارت 42.5 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا۔ وزیر اور رہنماؤں نے متعلقہ حکام کو عوام کی بھرپور مدد اور ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔
جنوبی کوریا میں گرمی کی ایک شدید اور تاریخ ساز لہر نے پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے، جس کے نتیجے میں اب تک کم از کم 16 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔ ملک بھر میں بڑھتے ہوئے درجہ حرارت اور ہیٹ ویو کے پیش نظر حکام نے ہنگامی اقدامات شروع کر دیے ہیں تاکہ عوام کو اس موسمی شدت سے بچایا جا سکے۔ کوریائی جزیرہ نما میں پھیلنے والی اس شدید گرمی نے معمولاتِ زندگی کو معطل کر کے رکھ دیا ہے اور انتظامیہ کو ہائی الرٹ پر رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق جنوبی کوریا میں درجہ حرارت نے ماضی تمام ریکارڈ توڑتے ہوئے 42.5 ڈگری سینٹی گریڈ کی بلند ترین سطح کو چھو لیا ہے۔ اس خطرناک صورتحال کے بعد ماہرینِ صحت اور مقامی انتظامیہ کی جانب سے شہریوں کو سخت ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نہ نکلیں اور بالخصوص دوپہر کے وقت تمام بیرونی سرگرمیاں معطل رکھی جائیں۔ حکومت نے عوام کو ہیٹ اسٹروک سے بچانے کے لیے کولنگ شیلٹرز اور طبی امدادی کیمپوں کے دائرہ کار کو بھی وسیع کر دیا ہے۔
اس سنگین صورتحال پر ردعمل دیتے ہوئے جنوبی کوریا کے سیاسی رہنما لی نے حکام پر زور دیا ہے کہ وہ متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں کو مزید تیز کریں اور عوام کو فوری ریلیف فراہم کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کمزور طبقات، بزرگوں اور مزدور طبقے کی حفاظت کے لیے خصوصی اقدامات کیے جائیں جو اس شدید گرمی میں کھلے آسمان تلے کام کرنے پر مجبور ہیں۔ حکومتی سطح پر ہنگامی فنڈز جاری کرنے اور طبی عملے کو چوبیس گھنٹے الرٹ رکھنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔
دوسری جانب، اس موسمی بحران کے معاشی اثرات بھی سامنے آنے لگے ہیں جس کے تحت کوریا کی اسٹاک مارکیٹ میں کولنگ اور ائیر کنڈیشنگ کے آلات بنانے والی کمپنیوں کے شیئرز میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اے جیو پریس کی رپورٹ کے مطابق شدید گرمی کی وجہ سے اے سی اور پنکھوں کی طلب میں آسمان چھوتی تیزی آئی ہے۔ ماہرین موسمیات کا کہنا ہے کہ اگر آئندہ چند روز تک درجہ حرارت میں کمی واقع نہ ہوئی تو صورتحال مزید تشویشناک ہو سکتی ہے، اس لیے تمام اداروں کو باہم مل کر جامع حکمت عملی کے تحت کام کرنا ہوگا۔