LIVE
Loading Breaking News...

سکاٹ بیسٹ کی مداخلت اور امریکی کرنسی ایکٹو ازم کا نیا دور

News Image
امریکہ اور جاپان نے تاریخی مشترکہ اقدام کے تحت جاپانی ین کی قدر کو سہارا دینے کے لیے مارکیٹ میں مداخلت کی ہے۔ اس اہم قدم سے عالمی مالیاتی منڈیوں میں امریکی کرنسی ایکٹو ازم کے ایک نئے دور کا آغاز ہو رہا ہے۔
عالمی مالیاتی منڈیوں میں اس وقت ہلچل مچ گئی جب امریکہ اور جاپان نے جاپانی ین کی قدر کو سہارا دینے کے لیے ایک انتہائی اہم اور تاریخی مشترکہ قدم اٹھایا۔ فنانشل ٹائمز اور رائٹرز کی رپورٹس کے مطابق، امریکی محکمہ خزانہ نے کرنسی مارکیٹ میں براہِ راست مداخلت کی ہے تاکہ ین کی گرتی ہوئی قدر کو روکا جا سکے۔ اس پورے عمل میں سکاٹ بیسٹ کا کردار مرکزی حیثیت رکھتا ہے، جن کی ہدایات اور مجوزہ فہرست کے تحت اربوں ڈالر مالیت کے جاپانی ین خریدے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ اس غیر معمولی اقدام کو ماہرین معیشت امریکی کرنسی ایکٹو ازم کے ایک نئے دور کا آغاز قرار دے رہے ہیں، جہاں واشنگٹن عالمی معیشت اور اہم کرنسیوں کے استحکام کے لیے زیادہ فعال کردار ادا کرتا دکھائی دے رہا ہے۔ اس فیصلے کے بعد سے بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور سرمایہ کاروں کی طرف سے اس پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے کیونکہ اس سے دنیا بھر کی کرنسی مارکیٹوں بالخصوص ڈالر اور ین کے تبادلے پر گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے جاپانی کرنسی کی پشت پناہی کے اس فیصلے نے سیاسی اور معاشی حلقوں میں نئی بحث چھڑ دی ہے کہ آیا واشنگٹن مستقبل میں بھی اس طرح کی مداخلتوں کا سلسلہ جاری رکھے گا یا نہیں۔