Technology
گوگل اے آئی خرابی: الفابیٹ کے حصص اور مصنوعی ذہانت کے مسائل
گوگل کی جانب سے مصنوعی ذہانت پر مبنی سیٹلائٹ تصاویر کے حوالے سے نیا ٹول متعارف کرائے جانے کے بعد غلط معلومات اور جعلی تصاویر کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ ان خدشات کے پیش نظر ٹیک کمپنی نے اس فیچر کو عارضی طور پر معطل کر دیا ہے جس سے الفابیٹ کے حصص پر توجہ مرکوز ہو گئی ہے۔
ٹیکنالوجی کی دنیا کی معروف ترین کمپنی گوگل کو اس وقت ایک بڑے چیلنج کا سامنا کرنا پڑا جب اس کے مصنوعی ذہانت پر مبنی نئے پروجیکٹ میں خرابی سامنے آئی۔ اس واقعے کے بعد گوگل کی بنیادی کمپنی الفابیٹ کے حصص ایک بار پھر سرمایہ کاروں اور مارکیٹ تجزیہ کاروں کی خصوصی توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق مسئلہ اس وقت پیدا ہوا جب گوگل نے اپنے مشہور پلیٹ فارم گوگل ارتھ میں ایک نیا مصنوعی ذہانت پر مبنی ٹول متعارف کرایا جسے مبینہ طور پر نینو بنانا کا نام دیا گیا تھا۔ اس ٹول کا مقصد صارفین کے لیے سیٹلائٹ کی تصاویر کو تبدیل کرنا یا ان میں مخصوص مقامات کی تبدیلی کو آسان بنانا تھا۔ تاہم اس فیچر کے سامنے آتے ہی دنیا بھر کے ماہرینِ ٹیکنالوجی اور میڈیا اداروں نے خبردار کیا کہ اس سے آسمان اور زمین کی فرضی یا جعلی تصاویر یعنی ڈیپ فیکس کے خطرات میں خطرناک حد تک اضافہ ہو سکتا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس قسم کے ٹولز غلط معلومات پھیلانے اور سچی معلومات کو مسخ کرنے کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ بڑھتے ہوئے دباؤ اور عوامی تنقید کے بعد گوگل نے فوری طور پر عمل کرتے ہوئے اس نئے ارتھ اے آئی ٹول کو عارضی طور پر واپس لینے یا روکنے کا اعلان کیا۔ برطانوی نشریاتی ادارے سمیت کئی عالمی خبر رساں اداروں نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ کمپنی نے حفاظتی خدشات کے پیش نظر اس فیچر کو فی الحال معطل کر دیا ہے۔ اس پوری صورتحال کا براہ راست اثر وال اسٹریٹ اور اسٹاک مارکیٹ پر پڑا ہے جہاں الفابیٹ کے حصص کی قیمتوں اور مستقبل کے رجحانات پر مبصرین کی جانب سے گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔ سرمایہ کار اب اس بات کا اندازہ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ مصنوعی ذہانت کے شعبے میں اس قسم کے غلط اقدامات یا تکنیکی نقائص کمپنی کی ساکھ اور مستقبل کی کمائی کو کس حد تک متاثر کر سکتے ہیں۔ گوگل کی جانب سے فی الحال اس معاملے پر مزید احتیاط برتنے اور اے آئی ٹولز کی سکیورٹی کو بہتر بنانے پر زور دیا جا رہا ہے تاکہ مستقبل میں ایسے ناخوشگوار واقعات سے بچا جا سکے۔