Health
چھاتی کا کینسر اور اسکریننگ: پچاس سال سے کم عمر خواتین کے لیے خطرے کی گھنٹی
ایک تازہ طبی تحقیق کے مطابق برطانوی طبی نظام کے تحت پچاس سال سے کم عمر کی نوے فیصد سے زائد خواتین چھاتی کے کسر کی بروقت تشخیص سے محروم رہ جاتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ خطرے سے دوچار نوجوان خواتین کو بروقت اسکریننگ کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے پالیسیوں میں فوری تبدیلی کی ضرورت ہے۔
طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ طبی نظام اور اسکریننگ کے طریقہ کار نوجوان خواتین کو چھاتی کے کینسر جیسے موذی مرض سے بچانے میں ناکافی ثابت ہو رہے ہیں۔ ایک نئی تحقیق کے مطابق پچاس سال سے کم عمر کی وہ خواتین جو اس بیماری کا زیادہ خطرہ رکھتی ہیں، ان میں سے پچانوے فیصد تک خواتین روایتی این ایچ ایس اسکریننگ کے دائرہ کار سے باہر رہ جاتی ہیں۔ یہ صورتحال طبی ماہرین اور صحت کے شعبے سے وابستہ افراد کے لیے شدید تشویش کا باعث بن رہی ہے کیونکہ کم عمری میں کینسر کی تشخیص نہ ہونے سے علاج کے موثر مواقع ضائع ہو سکتے ہیں۔
محققین کا کہنا ہے کہ موجودہ گائیڈلائنز اور اصول و ضوابط عموماً بڑی عمر کی خواتین کو مدنظر رکھ کر بنائے گئے ہیں، جس کی وجہ سے کم عمر خواتین کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ جینیاتی اسباب، خاندانی تاریخ اور دیگر خطرات کی حامل نوجوان خواتین کو بروقت طبی مشورے اور جانچ کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ مرض کے ابتدائی مراحل میں ہی اس کا سدباب کیا جا سکے۔ ماہرین نے زور دیا ہے کہ طبی اداروں کو اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرنا ہوگی تاکہ کم عمر خواتین کے لیے بھی اسکریننگ کے پروگراموں کو وسعت دی جا سکے۔
اس تحقیق کے بعد عالمی سطح پر اس بات پر زور دیا جا رہا ہے کہ چھاتی کے کینسر کی تشخیص کے لیے عمر کی حد کے بجائے خطرے کی نوعیت کو ترجیح دی جائے۔ اگر نوجوان خواتین کی بروقت اسکریننگ کو یقینی بنایا جائے تو اس موذی مرض سے ہونے اموات کی شرح میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔ طبی ماہرین نے حکومتوں اور صحت کے اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس سنگین مسئلے کا فوری نوٹس لیں اور خطرے سے دوچار نوجوان خواتین کے لیے خصوصی جانچ کے مراکز قائم کریں۔