World
امریکی ریاستوں کا ٹیرف کے خلاف قانونی قدم، درجنوں ممالک متاثر
امریکی ریاستوں نے درجنوں ممالک کو متاثر کرنے والے نئے ٹیرف کو روکنے کے لیے عدالت سے رجوع کر لیا ہے۔ یہ ڈیوٹی اس دعوے کے بعد لگائی گئی تھی کہ ساٹھ امریکی تجارتی شراکت دار جبری مشقت کے خاتمے میں ناکام رہے ہیں۔
امریکہ میں کئی ریاستوں نے مشترکہ طور پر ایک بڑا قانونی قدم اٹھاتے ہوئے ان متنازعہ ٹیرف کو روکنے کے لیے عدالت سے رجوع کر لیا ہے جنہوں نے دنیا بھر کے درجنوں ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ یہ ٹیرف اس مؤقف کے تحت عائد کیے گئے تھے کہ امریکہ کے تقریباً ساٹھ تجارتی شراکت دار ممالک اپنے یہاں جبری مشقت کے مسائل سے سختی سے نمٹنے میں ناکام رہے ہیں۔ اس اقدام کا مقصد بین الاقوامی سطح پر مزدوروں کے حقوق کا تحفظ بتایا گیا تھا، تاہم اس سے عالمی تجارت پر گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ متاثرہ ممالک کی طرف سے ان پابندیوں اور محصولاتی اقدامات پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا اور اب امریکی عدالتوں میں اس معاملے پر باضابطہ قانونی لڑائی کا آغاز ہو چکا ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق، یہ مقدمہ نہ صرف ملکی سطح پر انتظامیہ اور ریاستوں کے مابین اختیارات کی جنگ کو اجاگر کرتا ہے بلکہ اس کے بین الاقوامی تجارتی تعلقات پر بھی دور رس نتائج برآمد ہوں گے۔ مقدمہ دائر کرنے والی ریاستوں کا مؤقف ہے کہ ان یکطرفہ محصولات سے مقامی معیشت کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے اور سپلائی چین متاثر ہو رہی ہے۔ آنے والے دنوں میں اس قانونی چارہ جوئی کے دوران فریقین کے مابین مزید سخت دلائل متوقع ہیں، جن کی بنیاد پر امریکی تجارتی پالیسی کے مستقبل کا فیصلہ ہوگا۔