LIVE
Loading Breaking News...

سوکانے وائلڈ فائر تباہی: قبل اور بعد کی تصاویر نے نقصان کا پول کھول دیا

News Image
بی بی سی وریفائی نے واشنگٹن ریاست میں جنگلات کی آگ سے ہونے والی تباہی کا اندازہ لگانے کے لیے قبل اور بعد کی تصاویر کا تجزیہ کیا ہے۔ آن لائن ویڈیوز اور سیٹلائٹ تصاویر سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ نے رہائشی علاقوں کو کس طرح ملیہ میٹ کیا۔
واشنگٹن ریاست کے علاقے سوکانے میں حال ہی میں لگنے والی ہولناک جنگلات کی آگ نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے، جس کے بعد اب قبل اور بعد کی تصاویر نے اس سانحے کی سنگین نوعیت کو بے نقاب کر دیا ہے۔ بی بی سی وریفائی کی جانب سے کیے گئے تجزیے میں آن لائن پوسٹ کی جانے والی ویڈیوز اور پرانی اسٹریٹ امیجز کا موازنہ کیا گیا ہے تاکہ معلوم ہو سکے کہ آگ نے ان پرسکون رہائشی علاقوں کو کتنی بری طرح متاثر کیا۔ سامنے آنے والے مناظر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ جو گلیاں کبھی سرسبز اور خوبصورت مکانات سے آراستہ تھیں، وہ اب راکھ کے ڈھیر اور ملبے کا منظر پیش کر رہی ہیں۔ تحقیقات کے مطابق، آگ اتنی تیزی سے پھیلی کہ لوگوں کو اپنے گھر بار چھوڑ کر محفوظ مقامات پر جانے کے لیے انتہائی کم وقت ملا۔ جلی ہوئی کاریں سڑکوں پر کھڑی ہیں جبکہ گھروں کے صرف ڈھانچے ہی باقی بچے ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہاں کتنی شدید حرارت اور لپیٹ تھی۔ فائر فائٹرز اور امدادی ٹیموں نے اس قدرتی آفت پر قابو پانے کے لیے دن رات جدوجہد کی، لیکن آگ کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ وہ متعدد رہائشی عمارتوں کو بچانے میں ناکام رہے۔ مقامی انتظامیہ اور فائر فائٹنگ ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے نقصان کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے جبکہ متاثرہ خاندانوں کی بحالی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں اور خشک سالی کے باعث امریکہ کے مغربی حصوں میں جنگلات کی آگ کے واقعات میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ سوکانے کا یہ واقعہ اس بات کی یاد دہانی کراتا ہے کہ کس طرح کچھ ہی گھنٹوں میں برسوں کی جمع پونجی اور بستیاں راکھ کا ڈھیر بن سکتی ہیں۔ مقامی حکومت نے متاثرہ علاقوں میں لوگوں کی واپسی کے لیے حفاظتی ہدایات جاری کی ہیں کیونکہ جلنے والی عمارتوں اور گاڑیوں سے اٹھنے والا دھواں اور زہریلے ذرات صحت کے لیے شدید خطرہ بن سکتے ہیں۔ وفاقی سطح پر بھی امدادی پیکیج کا اعلان کیا گیا ہے تاکہ متاثرین کو دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا کیا جا سکے۔