World
نیو جرسی میں ICE کی حراست میں سلواڈور کے شہری کی ہلاکت
امریکہ کے نیو جرسی میں امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کی حراست میں سلواڈور سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کی موت واقع ہو گئی ہے۔ آٹھ ماہ کے دوران اس نوعیت کی دوسری ہلاکت کے بعد انسانی حقوق کی تنظیموں اور مقامی رہنماؤں نے اس مرکز کو فوری طور پر بند کرنے اور تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
امریکہ کی ریاست نیو جرسی میں قائم امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کے ایک حراستی مرکز میں سلواڈور سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کے جاں بحق ہونے کا واقعہ پیش آیا ہے۔ اس افسوسناک واقعے کے بعد مقامی کمیونٹی اور تارکین وطن کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے، جنہوں نے اس حراستی مرکز کو فوری طور پر بند کرنے کے پرزور مطالبات شروع کر دیے ہیں۔ حکام کے مطابق اس مرکز میں گزشتہ آٹھ ماہ کے دوران کسی قیدی کی موت کا یہ دوسرا واقعہ ہے، جس نے حراستی مرکز کے اندر طبی سہولیات اور قیدیوں کے ساتھ برتاؤ پر سنگین سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔
ذرائع کے مطابق جاں بحق ہونے والے شخص کا تعلق سلواڈور سے تھا اور وہ طویل عرصے سے امریکہ میں امیگریشن کے قانونی معاملات کا سامنا کر رہا تھا۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی انسانی حقوق کے متعدد کارکنان اور سول سوسائٹی کے نمائندے متحرک ہو گئے ہیں اور انہوں نے اس پورے معاملے کی شفاف اور آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حراستی مراکز میں انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے وضع کردہ ایس او پیز پر عمل درآمد کا سخت جائزہ لیا جانا چاہیے تاکہ اس قسم کے دردناک حوادث کا سدباب کیا جا سکے اور ذمہ داروں کا تعین ہو سکے۔
دوسری جانب متعلقہ حکام نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ واقعے کی اندرونی تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے تاکہ موت کی حتمی وجوہات کا پتہ لگایا جا سکے۔ وفاقی اور مقامی حکام کا کہنا ہے کہ وہ اس پورے معاملے میں پوری سنجیدگی کے ساتھ حقائق کا جائزہ لے رہے ہیں تاہم انسانی حقوق کی تنظیموں کا اصرار ہے کہ محض اندرونی انکوائری کافی نہیں بلکہ اس مرکز کی مجموعی کارکردگی اور یہاں موجود قیدیوں کی حالت زار کا فوری طور پر جائزہ لینا ناگزیر ہو چکا ہے۔
اس واقعے کے بعد امریکہ بھر میں تارکین وطن کی حراست کے نظام اور جیلوں کی حالت زار پر ایک بار پھر ملک گیر بحث چھڑ گئی ہے۔ سیاسی و سماجی حلقوں کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ تارکین وطن کے ساتھ انسانی سلوک کو یقینی بنایا جائے اور ایسے تمام مراکز جہاں مناسب طبی سہولیات کا فقدان ہے، انہیں فوری طور پر بند کیا جائے تاکہ مستقبل میں کسی اور قیمتی جان کا ضیاع نہ ہو۔