Business
امریکی اسٹاک مارکیٹ میں تیزی اور ایران مذاکرات کی خبروں پر تیل سستا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ بات چیت جاری ہونے کے دعوے کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی ہے۔ دوسری جانب بینچ مارک ایس اینڈ پی 500 انڈیکس اپنی ہم وقت ساز بلند ترین سطح کے قریب پہنچ گیا ہے۔
عالمی مالیاتی منڈیوں میں ایک بار پھر ہلچل دیکھنے میں آئی ہے جہاں امریکی اسٹاک مارکیٹ کے اہم اشاریے ریکارڈ بلندی کے قریب پہنچ گئے ہیں۔ سرمایہ کاروں کی مثبت دلچسپی کے باعث بینچ مارک ایس اینڈ پی 500 (S&P 500) انڈیکس اپنی تمام وقت کی بلند ترین سطح کے نہایت قریب ٹریڈ کر رہا ہے۔ معاشی ماہرین کے مطابق کارپوریٹ سیکٹر کے بہتر نتائج اور معاشی استحکام کی توقعات نے سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال رکھا ہے، جس سے حصص بازار میں مسلسل تیزی کا رجحان پایا جاتا ہے۔ دوسری جانب، واشنگٹن اور تہران کی جانب سے کشیدہ تعلقات اور مبینہ مذاکرات کے حوالے سے متضاد بیانات سامنے آئے ہیں، جن کا براہ راست اثر توانائی کی مارکیٹس پر پڑا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران کے ساتھ پسِ پردہ مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے، جس کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی ہے۔ تیل کی قیمتوں میں اس گراوٹ کو معیشت کے لیے ایک مثبت محرک کے طور پر دیکھا جا رہا ہے کیونکہ اس سے افراطِ زر کے دباؤ میں کمی آ سکتی ہے۔ تاہم، اس بات چیت کی نوعیت اور حتمی نتائج کے بارے میں تاحال فریقین کی جانب سے کوئی حتمی مصدقہ تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔ ادھر مشرق وسطیٰ کی بدلتی ہوئی صورتحال اور دونوں ممالک کے درمیان بیانات کے تبادلے نے جی پولٹیکل مبصرین کی توجہ بھی مبذول کروا رکھی ہے۔ سیاسی و معاشی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی کم ہوتی ہے اور باضابطہ بات چیت کا آغاز ہوتا ہے، تو عالمی تیل کی سپلائی لائنز مزید مستحکم ہوں گی، جس کے نتیجے میں توانائی کی قیمتوں میں مزید استحکام دیکھنے کو مل سکتا ہے۔ فی الحال، وال اسٹریٹ کے سرمایہ کار ان تمام سیاسی و معاشی پیش رفتوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ مارکیٹ کے اگلے لائحہ عمل کا تعین کیا جا سکے۔