LIVE
Loading Breaking News...

کیوبا پر امریکی پابندیاں اور قومی سلامتی کا معاملہ

News Image
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہوانا پر پابندیوں میں مزید اضافہ کرتے ہوئے انتباہ کیا ہے کہ کیوبا اب بھی امریکہ کی قومی سلامتی کے لیے ایک خطرہ ہے۔ اس اقدام کے بعد بین الاقوامی سطح پر اس پالیسی کے اثرات اور افادیت پر بحث کا آغاز ہو چکا ہے۔
امریکہ اور کیوبا کے درمیان کشیدہ تعلقات میں ایک بار پھر اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جب امریکی انتظامیہ نے ہوانا کے خلاف پابندیوں اور اقتصادی ناکہ بندی کو مزید سخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس حالیہ پیش رفت کے بعد عالمی سطح پر یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا کیوبا کے خلاف اس قسم کے سخت اقدامات واقعی امریکہ کو اندرونی طور پر زیادہ محفوظ بناتے ہیں یا پھر اس سے خطے میں مزید کشیدگی پیدا ہوتی ہے؟ ماہرین کا کہنا ہے کہ سرد جنگ کے دور سے چلی آ رہی اس پالیسی کے طویل المدتی اثرات کا جائزہ لینا اب ناگزیر ہو چکا ہے۔ دوسری جانب، امریکی حکام اور اس پالیسی کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ کیوبا اب بھی خطے میں سکیورٹی اور سیاسی استحکام کے لیے خطرہ بنا ہوا ہے۔ اسی تناظر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کیوبا پر عائد کردہ پابندیوں میں مزید سختی لانے کا انتباہ جاری کیا گیا ہے۔ واشنگٹن کا اصرار ہے کہ یہ اقدامات ملکی مفادات کے تحفظ اور کیوبا کی طرف سے مبینہ خطرات سے نمٹنے کے لیے انتہائی ضروری ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ سکیورٹی بحران کو روکا جا سکے۔ تاہم، اس ناکہ بندی کے مخالفین اور ناقدین کا ماننا ہے کہ اس قسم کے معاشی دباؤ سے عام کیوبن عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن اس سے حکومت کی پالیسیوں میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آتی۔ کئی بین الاقوامی تعلقات کے ماہرین نے اس بات پر زور دیا ہے کہ سفارتی مذاکرات اور باہمی تعاون کے بغیر اس دیرینہ تنازع کا کوئی مستقل حل تلاش کرنا ممکن نہیں ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آنے والے دنوں میں واشنگٹن کی یہ سخت گیر پالیسی کیا رنگ لاتی ہے اور آیا کیوبا کے ساتھ تعلقات میں کوئی مثبت تبدیلی آتی ہے یا نہیں۔