LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان اور ایران کے تعلقات، تہران کا اسلام آباد کو اہم ثالث قرار دینے کا اعلان

News Image
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر حملے کی دھمکیوں اور کشیدگی میں اضافے کے بعد پاکستان نے ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور وزیر خارجہ کو ہنگامی مشاورت کے لیے اسلام آباد کی دعوت دی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں پاکستان ان کا بنیادی ثالث ہے۔
اسلام آباد: پاکستان نے پیر کے روز ایران کے پارلیمانی اسپیکر اور وزیر خارجہ کو علاقائی صورتحال پر فوری مشاورت کے لیے اسلام آباد آنے کی دعوت دی ہے۔ یہ اہم پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب تہران نے ایک بار پھر اس بات کی تصدیق کی ہے کہ پاکستان امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں اس کا بنیادی ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔ قومی اسمبلی کے اسپیکر سردار ایاز صادق نے ایرانی ہم منصب محمد باقر قالیباف کو دورے کی دعوت دی ہے جو کہ واشنگتن کے ساتھ تہران کے چیف مذاکرات کار بھی ہیں۔ دوسری جانب وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی اپنے ایرانی ہم منصب سید عباس عراقچی کو پاکستان کا دورہ کرنے کی دعوت دی ہے۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان یہ رابطہ پیر کی شب ٹیلیفونک گفتگو کے دوران ہوا۔ دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق دونوں فریقین نے مقبوضہ بیت المقدس کی بگڑتی ہوئی صورتحال سمیت خطے اور دنیا کے اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ایرانی حکام کو جلد از جلد اسلام آباد پہنچنے کی درخواست کی گئی ہے تاکہ موجودہ علاقائی بحران پر قابو پانے کے لیے مشترکہ لائحہ عمل طے کیا جا سکے۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے درمیان ایک بار پھر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے ایران کی قیادت کو دوغلا پن کا شکار قرار دیتے ہوئے دھمکی دی ہے کہ جب تک کوئی معاہدہ یا مکمل ہتھیار ڈالنے کا عمل طے نہیں پاتا، امریکی فوجی دباؤ جاری رہے گا۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ تہران کو ایک اور موقع فراہم کر رہے ہیں لیکن اگر بات چیت کے ذریعے کوئی حل نہ نکلا تو نتائج انتہائی خطرناک ہو سکتے ہیں۔ ادھر ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے واضح کیا ہے کہ امریکہ کے ساتھ بات چیت میں اصل ثالث پاکستان ہی ہے جبکہ قطر اس سلسلے میں ضرورت پڑنے پر معاونت فراہم کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت کسی نئے ثالث کو شامل نہیں کیا گیا بلکہ روایتی طور پر پاکستان ہی اس سفارتی عمل کو آگے بڑھا رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق پاکستان اور ایران کے درمیان یہ رابطے خطے میں جنگ کے بادل چھٹانے اور سفارتی راہ نکالنے کے لیے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔