LIVE
Loading Breaking News...

حکومت کا پنشن فنڈ مینیجرز کے ساتھ معاہدے، پنشن اصلاحات کا نفاذ

News Image
وفاقی حکومت نے سرکاری ملازمین کے لیے ڈیفائنڈ کنٹریبیوٹری پنشن فنڈ اسکیم کو باضابطہ طور پر فعال بنانے کے لیے 16 پنشن فنڈ مینیجرز کے ساتھ معاہدے طے کر لیے ہیں۔ اس اقدام کا مقصد قومی بجٹ پر بڑھتے ہوئے پنشن کے مالی بوجھ کو کم کرنا اور ملازمین کو بہتر مالی تحفظ فراہم کرنا ہے۔
وفاقی وزارتِ خزانہ نے سرکاری ملازمین کے لیے متعارف کرائی گئی 'ڈیفائنڈ کنٹریبیوٹری پنشن فنڈ اسکیم' (DCPFS) کو باضابطہ طور پر فعال کرنے کے لیے سولہ (16) پنشن فنڈ مینیجرز کے ساتھ اہم معاہدے طے کر لیے ہیں۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد ملکی بجٹ پر تیزی سے بڑھتے ہوئے پنشن کے بوجھ کو کم کرنا اور طویل مدت میں مالیاتی استحکام کو یقینی بنانا ہے۔ ان معاہدوں کے تحت منتخب ہونے والے زیادہ تر فنڈ مینیجرز نامور کمرشل بینکوں اور انشورنس کمپنیوں کی ملکیت یا زیرِ انتظام ہیں، جن میں اے بی ایل ایسٹ مینجمنٹ، الحبیب ایسٹ مینجمنٹ، المیزان انویسٹمنٹ، فیصل ایسٹ مینجمنٹ، جے ایس انویسٹمنٹس، ایم سی بی انویسٹمنٹ، الفلاح ایسٹ مینجمنٹ، ایچ بی ایل ایسٹ مینجمنٹ، یو بی ایل فنڈ مینیجرز اور این بی پی فنڈ مینجمنٹ شامل ہیں۔ معاہدے کی شرائط کے مطابق، یہ فنڈ مینیجرز رضاکارانہ پنشن سسٹم رولز 2005 کے تحت وفاقی ملازمین کے لیے روایتی یا شریعت کے اصولوں کے مطابق پنشن فنڈز قائم کریں گے اور ان کا باقاعدہ انتظام چلائیں گے۔ حکومت کی جانب سے ملازمین کے حصہ کے تناسب سے سالانہ بنیادوں پر بجٹ میں رقم مختص کی جائے گی۔ اس کے علاوہ، ان معاہدوں میں ایک لازمی انشورنس پلان بھی شامل ہے جو ملازمین کو موت اور معذوری کے خطرات سے بچانے کے لیے کور فراہم کرے گا۔ ان فنڈ مینیجرز کی جانب سے الگ الگ پنشن فنڈز قائم کیے جائیں گے جبکہ حکومت ایک نان بینکنگ فنانس کمپنی (NBFC) قائم کرنے کی ذمہ دار بھی ہے جو اس پوری اسکیم کے نفاذ اور نگرانی میں مدد دے گی۔ این بی کے قیام تک وزارتِ خزانہ خود آن لائن پورٹل کے ذریعے فنڈ مینیجرز اور ملازمین کے امور کو دیکھے گی۔ نئے قوانین کے تحت ملازمین ریٹائرمنٹ سے پہلے اپنی پنشن اکاؤنٹ سے کوئی رقم نہیں نکال سکیں گے۔ ریٹائرمنٹ کے وقت بھی ملازمین اپنی کل جمع شدہ رقم کا زیادہ سے زیادہ پچیس فیصد حصہ نکالنے کے مجاز ہوں گے، جبکہ باقی ماندہ رقم کو رضاکارانہ پنشن سسٹم کے اصولوں کے مطابق کم از کم بیس سال یا اپنی وفات تک (جو بھی پہلے ہو) سرمایہ کاری کے طور پر رکھنا ہوگا۔ تاہم، قوانین ملازمین کو اس بات کی اجازت دیتے ہیں کہ وہ ضرورت پڑنے پر اپنا پنشن اکاؤنٹ ایک فنڈ مینیجر سے دوسرے فنڈ مینیجر میں منتقل کر سکتے ہیں۔ یاد رہے کہ حکومت نے 2024 میں ان اہم پنشن اصلاحات کا اعلان کیا تھا جس کے تحت یکم جولائی 2024 یا اس کے بعد بھرتی ہونے والے تمام نئے وفاقی سول ملازمین اس کنٹریبیوٹری پنشن اسکیم کا حصہ بنیں گے، جو روایتی پنشن سسٹم کی جگہ لے گی۔