Pakistan
بلوچستان کی صورتحال پر وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی کا اہم بیان
بلوچستان کے وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی کا کہنا ہے کہ صوبے کے امن و امان اور حکمرانی کے حالات اتنے برے نہیں ہیں جتنا باہر کے حلقوں کی طرف سے دکھایا جاتا ہے۔ انہوں نے قومی میڈیا پر زور دیا کہ وہ دہشت گردانہ واقعات کے ساتھ ساتھ صوبے کی ترقیاتی کاوشوں اور اصلاحات کو بھی اجاگر کرے۔
کوئٹہ: بلوچستان کے وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ صوبے میں سیکیورٹی اور گورننس کی صورتحال نہ تو مکمل طور پر مثالی ہے اور نہ ہی اتنی تاریک ہے جتنا اسے صوبے سے باہر کے بعض حلقوں کی طرف سے پیش کیا جاتا ہے۔ ایک نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے خبردار کیا کہ منفی اور یکطرفہ بیانیے نہ صرف بلوچستان بلکہ مجموعی طور پر پاکستان کی ساکھ اور حکومتی کوششوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے افسوس کا اظہار کیا کہ قومی میڈیا اس وقت بلوچستان پر توجہ دیتا ہے جب کوئی پرتشدد واقعہ پیش آتا ہے، جبکہ صوبے میں ہونے والی ترقیاتی پیشرفت اور اصلاحات کو یکسر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
حکومتی اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے سرفراز بگٹی نے بتایا کہ صوبائی حکومت نے نوجوانوں کی فلاح و بہبود کے لیے کئی پروگرام شروع کیے ہیں، سرکاری اسپتالوں میں طبی خدمات کو بہتر بنایا گیا ہے، تمام سرکاری اسکولوں کو فعال کر دیا گیا ہے اور میرٹ کی بنیاد پر شفاف طریقے سے تقریباً 17,000 اساتذہ بھرتی کیے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ڈویژنوں اور اضلاع کا قیام گورننس کو مضبوط بنانے اور پبلک سروس ڈیلیوری کو بہتر بنانے کے لیے عمل میں لایا گیا ہے تاکہ ریاست دور دراز علاقوں کے عوام تک مؤثر طریقے سے رسائی حاصل کر سکے۔
سیکیورٹی کے امور پر بات کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کو عالمی برادری کی حمایت حاصل ہے، تاہم انہوں نے الزام لگایا کہ افغان سرزمین اب بھی پاکستان مخالف دہشت گرد گروہوں کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ بعض دہشت گرد تنظیموں کے سہولت کار، مالی معاونین اور ٹرینرز بھارتی خفیہ نیٹ ورک سے جڑے ہوئے ہیں۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ بلوچستان کا وسیع جغرافیہ اور ناہموار خطہ انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں کو مشکل بناتا ہے، لیکن سیکیورٹی فورسز قانون کے دائرے میں رہ کر شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنا رہی ہیں۔
آخر میں وزیراعلیٰ نے سیاسی جماعتوں، منتخب نمائندوں اور نوجوانوں کے ساتھ مذاکرات کی اہمیت پر زور دیا تاکہ سیاسی اور سماجی مسائل کا حل نکالا جا سکے۔ اس کے علاوہ، وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی کی زیر صدارت ایک اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا جس میں صوبے بھر میں یومِ آزادی کی تقریبات کی تیاریوں کا جائزہ لیا گیا، اور اس اجلاس میں کور کمانڈر بلوچستان لیفٹیننٹ جنرل راحت نسیم احمد خان سمیت دیگر اعلیٰ حکام نے بھی شرکت کی۔