Politics
سینیٹ کمیٹی کا اسمگلنگ اور میڈیا مہم پر سخت ردعمل
سینیٹ کی ذیلی کمیٹی نے موٹروے پر اسمگل شدہ سگریٹوں سے بھرے ٹرکوں کی ضبطی کے بعد اراکین کو نشانہ بنانے والی میڈیا مہم کی شدید مذمت کی ہے۔ کمیٹی نے ایف بی آر اور ایف آئی اے کو ذمہ داروں کے خلاف شفاف تحقیقات اور کارروائی کی ہدایت کی ہے۔
اسلام آباد: پارلیمنٹ ہاؤس میں سینیٹر سیف اللہ ابھرو کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ و انسداد منشیات کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس کے دوران موٹروے پر اسمگل شدہ سگریٹوں سے بھرے گیارہ ٹرکوں کی ضبطی کے بعد کمیٹی اراکین کو مبینہ طور پر ہدف بنانے والی ایک منفی میڈیا مہم کی شدید مذمت کی گئی۔ اجلاس میں سرحدی سیکیورٹی کے طریقہ کار، اسمگلنگ کے نیٹ ورکس، انسداد منشیات اور تمباکو کے شعبے میں ٹیکس چوری کے معاملات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی کنوینر نے اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا کہ بیس جولائی کے اجلاس کے اگلے روز ٹی وی چینلز اور آفیشل پریس ریلیز کے ذریعے کمیٹی چیئرمین اور اراکین کو نشانہ بنایا گیا۔ کمیٹی نے ایف بی آر کے ممبر کو ہدایت کی کہ وہ اپنے میڈیا ونگ سے جاری کردہ ہینڈ آؤٹ کا خود جائزہ لیں اور اس میں ملوث ذمہ دار حکام کی نشاندہی کریں۔ اس کے علاوہ، وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کو ٹارگٹڈ مہم چلانے والے ٹی وی چینلز کے خلاف مکمل طور پر غیر جانبدارانہ اور جامع تحقیقات کرنے کا حکم دیا گیا ہے تاکہ حقائق سامنے لائے جا سکیں۔ موٹروے پر گیارہ ٹرکوں کی ضبطی کے معاملے پر کمیٹی نے دائرہ اختیار پر سوال اٹھاتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ موٹروے کے امور کسٹمز کے بجائے ان لینڈ ریویو کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔ کمیٹی نے دو کروڑ بیس لاکھ روپے کی متضاد تخمینہ جاتی اقدار پر بھی شدید حیرت کا اظہار کیا اور ٹرانسپورٹ و اسٹیل کمپنی کے مالکان کو ہدایت کی کہ وہ اس حوالے سے اپنی تفصیلی رپورٹ جمع کروائیں۔ کسٹمز کی جانب سے درج کی گئی ایف آئی آر کی قانونی حیثیت پر بھی سوالات اٹھائے گئے جبکہ چھ روز کی تاخیر سے گیارہ ڈرائیوروں کو عدالت میں پیش کرنے پر متعلقہ انسپکٹر کو بھی طلب کیا گیا۔ اجلاس میں موٹروے پولیس کے آئی جی نے واضح کیا کہ کسٹمز کے ساتھ صرف مشکوک گاڑیوں کو روکنے میں آپریشنل تعاون کا سمجھوتہ موجود ہے۔ کمیٹی نے ڈیجیٹل پالیسی کے باوجود مینول کھپت کے سرٹیفکیٹس کے اجراء پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا۔ آخر میں ذیلی کمیٹی نے کسٹمز پوسٹس، ڈرائی پورٹس اور ریونیو اداروں میں بدعنوانیوں کا پردہ چاک کرنے کے عزم کا اعادہ کیا اور ایف آئی اے کو تمام زیر التواء انکوائریز جلد از جلد فائنل کرنے کی سخت ہدایت جاری کی۔