Health
کراچی میں خسرہ اور خناق سے بچوں کی اموات، تشویشناک اعداد و شمار جاری
کراچی کے چار بڑے اسپتالوں میں رواں سال جنوری سے اب تک خسرہ اور خناق جیسی قابلِ تدارک بیماریوں سے 144 بچے جان کی بازی ہار گئے۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس صورتحال کی بنیادی وجہ والدین کی غفلت اور بچوں کو وقت پر ویکسین نہ لگوانا ہے۔
کراچی کے چار اہم بڑے اسپتالوں میں رواں سال کے پہلے سات ماہ کے دوران خسرہ اور خناق جیسی خطرناک لیکن قابلِ تدارک بیماریوں کے باعث کم از کم 144 بچے جاں بحق ہو چکے ہیں۔ ان دونوں بیماریوں سے بچاؤ کے لیے ویکسین دستیاب ہے، اس کے باوجود بچوں کی اموات کا سلسلہ رک نہیں سکا۔ ذرائع کے مطابق انڈس اسپتال، سندھ انفیکچئس ڈیزیزز اسپتال اینڈ ریسرچ سینٹر، نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ (نچ) اور سندھ انسٹی ٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ اینڈ نیوناٹولوجی میں مجموعی طور پر 1,915 خسرے کے کیسز رپورٹ ہوئے جن میں سے 125 اموات ہوئیں۔ خناق کے بھی متعدد کیسز سامنے آئے جن میں دو درجن کے قریب بچے زندگی کی بازی ہار گئے۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ زیادہ تر کیسز میں بچے اسپتال اس وقت لائے جاتے ہیں جب ان کی حالت انتہائی تشویشناک ہو چکی ہوتی ہے اور خسرہ نمونیا یا دماغی سوجن جیسی خطرناک پیچیدگیوں میں تبدیل ہو چکا ہوتا ہے۔
پاکستان پیڈیاٹرک ایسوسی ایشن کے ڈاکٹر خالد شفیق نے اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے بتایا کہ ملک میں پیدائش کے وقت دی جانے والی ویکسین کی شرح تو 90 فیصد تک ہوتی ہے، لیکن جیسے جیسے بچہ بڑا ہوتا ہے، فالو اپ خوراکوں کی فراہمی میں یہ شرح نمایاں طور پر گر جاتی ہے۔ بدقسمتی سے والدین اس حوالے سے غفلت برتتے ہیں جس کی وجہ سے بچے خسرہ، ٹائیفائیڈ اور پولیو جیسی بیماریوں سے محفوظ نہیں رہ پاتے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ خسرے کی پہلی خوراک نو ماہ اور آخری خوراک پندرہ ماہ کی عمر میں دی جاتی ہے۔ اگر ہمارے 95 فیصد بچے وقت پر دونوں خوراکیں حاصل کر لیں تو اس بیماری پر باآسان قابو پایا جا سکتا ہے۔ دوسری جانب، ای پی آئی کے پراجیکٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر راج کمار نے دعویٰ کیا ہے کہ صوبے میں گزشتہ سال کے مقابلے میں اس سال خسرہ اور خناق کے کیسز میں مجموعی طور پر کمی ریکارڈ کی گئی ہے، تاہم اب بھی ایسے علاقے موجود ہیں جہاں بچے ویکسینیشن سے محروم رہ جاتے ہیں۔
اس سنگین چیلنج سے نمٹنے کے لیے حکومتی سطح پر وقتاً فوقتاً خصوصی مہمات بھی چلائی جاتی ہیں، لیکن ماہرین کا ماننا ہے کہ صرف حکومتی کوششیں کافی نہیں۔ صحت کے شعبے سے وابستہ تمام ڈاکٹروں اور طبی عملے کو بھی چاہیے کہ وہ جب بھی کسی بیمار بچے کا معائنہ کریں تو اس کی ویکسینیشن ہسٹری ضرور چیک کریں اور والدین کی کونسلنگ کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ والدین کی یہ بنیادی ذمے داری ہے کہ وہ اپنے بچوں کو حفاظتی ٹیکے وقت پر لگوائیں تاکہ ان کی قیمتی جانوں کو خسرہ اور خناق جیسی مہلک اور قابلِ علاج بیماریوں سے محفوظ بنایا جا سکے۔