LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان میں روئی کی پیداوار اور پھٹی کی آمد میں 32 فیصد اضافہ

News Image
پاکستان میں رواں سیزن کے دوران جننگ فیکٹریوں میں پھٹی کی آمد میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 32.33 فیصد کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ سندھ میں ریکارڈ پیداوار نے پنجاب میں آنے والی کمی کے اثرات کو زائل کر دیا ہے۔
پاکستان میں کپڑے کی صنعت کے لیے ایک حوصلہ افزا خبر سامنے آئی ہے جہاں ملک بھر کی جننگ فیکٹریوں میں پھٹی کی آمد میں سالانہ بنیادوں پر 32 فیصد سے زائد کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن (PCGA) کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق 31 جولائی تک پھٹی کی کل آمد 785,822 گانٹھوں تک پہنچ گئی، جو کہ گزشتہ سال کے اسی عرصے میں 593,821 گانٹھوں کے مقابلے میں 32.33 فیصد زیادہ ہے۔ اس اضافے کا سب سے بڑا محرک صوبہ سندھ رہا ہے جہاں حالیہ مون سون بارشوں کے باوجود پیداوار میں تاریخی اضافہ دیکھا گیا ہے۔ صوبائی اعداد و شمار پر نظر ڈالی جائے تو پنجاب میں پھٹی کی آمد 298,150 گانٹھر رہی جو کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں 1.1 فیصد کم ہے، جبکہ سندھ میں 66.82 فیصد کے شاندار اضافے کے ساتھ 487,672 گانٹھیں ریکارڈ کی گئیں۔ اس کے علاوہ بلوچستان میں بھی کپٹی کی آمد میں 52.67 فیصد کا اضافہ ہوا اور یہ 22,900 گانٹھوں تک پہنچ گئی۔ کاٹن جنرز فورم کے چیئرمین احسان الحق نے البتہ پی سی جی اے کے اعداد و شمار اور پنجاب حکومت کی کراپ رپورٹنگ سروس (CRS) کے درمیان فرق کی نشاندہی کی ہے اور متعلقہ حکام سے اس کی وضاحت طلب کی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بہاولپور ڈویژن میں روایتی کاٹن بیلٹ کا گنے کی فصل میں تبدیل ہونا ایک تشویشناک امر ہے کیونکہ اس سے ملکی سطح پر روئی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے درآمدات پر انحصار بڑھ رہا ہے۔ سینٹرل کاٹن ریسرچ انسٹی ٹیوٹ ملتان کے شعبہ منتقلی ٹیکنالوجی کے سربراہ ساجد محمود نے سیزن کے آغاز کو بہتر قرار دیا ہے تاہم انہوں نے خبردار کیا ہے کہ اگست اور ستمبر کے مہینے فصل کی حتمی صورتحال کا تعین کریں گے۔ انہوں نے کسانوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ بارشوں اور نمی کے تناظر میں فصل کو سفید مکھی اور گلابی سنڈی کے حملے سے بچانے کے لیے فوری زرعی اقدامات کریں۔