LIVE
Loading Breaking News...

اسلام آباد میں چہلم حضرت امام حسینؓ کی پرامن ادائیگی اور سیکیورٹی انتظامات

News Image
اسلام آباد میں حضرت امام حسینؓ کا چہلم انتہائی سخت حفاظتی انتظامات اور خصوصی ٹریفک پلان کے تحت عقیدت و احترام سے منایا گیا۔ سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے وفاقی دارالحکومت اور دیگر شہروں میں موبائل فون سروس کے کچھ حصوں میں معطل رکھنے کے ساتھ ساتھ پولیس کے خصوصی دستے تعینات کیے گئے تھے۔
اسلام آباد سمیت ملک بھر میں نواسہ رسول حضرت امام حسین علیہ السلام اور شہدائے کربلا کا چہلم انتہائی عقیدت و احترام اور سیکیورٹی کے سخت ترین انتظامات کے ساتھ منایا گیا۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں چہلم کے مرکزی جلوس اور مجالس کے موقع پر سیکیورٹی کے غیر معمولی اقدامات کیے گئے تھے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹا جا سکے۔ ضلعی انتظامیہ اور پولیس حکام کی جانب سے سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات کو حتمی شکل دی گئی تھی اور مرکزی جلوس کے راستوں پر رینجرز اور پولیس کی بھاری نفری تعینات رہی۔ انتظامیہ کی جانب سے شہریوں کی سہولت اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے ایک جامع ٹریفک پلان بھی جاری کیا گیا تھا جس میں متبادل راستوں کی نشاندہی کی گئی تھی تاکہ جلوس کے دوران ٹریفک رواں دواں رہے۔ اسلام آباد کیپیٹل ٹریٹری (ICT) پولیس کے اعلیٰ حکام نے جلوس کے راستوں اور امام بارگاہوں، بالخصوص امام بارگاہ اثنا عشری کا دورہ کیا اور سیکیورٹی انتظامات کا ازخود جائزہ لیا۔ اس موقع پر حساس مقامات کی نگرانی کے لیے جدید سیکیورٹی آلات اور سی سی ٹی وی کیمروں کا بھی بھرپور استعمال کیا گیا۔ ص صرف اسلام آباد ہی نہیں بلکہ ملک کے دیگر حصوں اور صوبوں میں بھی چہلم کے حوالے سے خصوصی انتظامات کیے گئے تھے۔ کوئٹہ اور بعض دیگر حساس علاقوں میں امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے اور ممکنہ خطرات کے پیش نظر موبائل فون سروس عارضی طور پر معطل رکھی گئی۔ وزارت داخلہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے تمام مجالس اور جلوسوں کے روٹس پر کڑی نگرانی رکھی تاکہ عزادارانِ امام حسینؓ اپنے مذہبی فرائض مکمل امن، سکون اور آزادی کے ساتھ سر انجام دے سکیں۔ علماء کرام اور ذاکرین نے مجالس سے خطاب کرتے ہوئے شہدائے کربلا کی قربانیوں کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا اور فلسفہ شہادت پر روشنی ڈالی۔ حکومت اور سیکیورٹی اداروں کے بروقت اور سخت اقدامات کی بدولت ملک بھر میں چہلم کا تمام پروگرام پرامن طریقے سے اختتام پذیر ہوا، جس پر شہریوں اور علماء نے انتظامیہ کے کردار کو سراہا۔