World
سئول ہیٹ ویو: امیر اور غریب طبقے میں واضح فرق اور موسمیاتی بحران
جنوبی کوریا میں شدید گرمی کی لہر کے دوران درجہ حرارت ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا ہے جس سے سئول کے امیر اور غریب طبقے کے درمیان زندگی کا واضح تفاوت سامنے آ گیا ہے۔ ہیٹ ویو کے باعث ملک بھر میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 16 ہو گئی ہے اور حکومت نے ہنگامی اقدامات شروع کر دیے ہیں۔
جنوبی کوریا کا دارالحکومت سئول ان دنوں شدید ترین گرمی کی لپیٹ میں ہے، جہاں حالیہ ہیٹ ویو نے شہر کے پوش علاقوں میں بسنے والے امیر اور نچلے طبقے کے درمیان زندگی کے معیار اور سہولیات کا فرق انتہائی واضح کر دیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ملک بھر میں جاری اس شدید گرمی کی لہر کے نتیجے میں اموات کی تعداد بڑھ کر 16 تک پہنچ گئی ہے، جبکہ کوریائی جزیرہ نما میں درجہ حرارت کی تمام پرانی تاریخ رقم ہو رہی ہے۔ سئول جیسے ترقی یافتہ اور گنجان آباد شہر میں موسمیاتی تبدیلیوں کے یہ اثرات معاشرتی ناہمواری کو مزید گہرا کر رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق جنوبی کوریا میں درجہ حرارت ریکارڈ سطح یعنی 42.5 ڈگری سینٹی گریڈ تک ریکارڈ کیا گیا ہے، جس نے معمولاتِ زندگی کو یکسر مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔ اس خطرناک گرمی میں جہاں پوش علاقوں کے رہائشی ایئر کنڈیشنڈ گھروں، جدید سہولیات اور نجی گاڑیوں تک رسائی رکھتے ہیں، وہیں غریب طبقے اور محنت کشوں کے لیے سایہ دار جگہوں اور مناسب کولنگ سسٹمز کا حصول ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ پرانی بستیوں اور تنگ گلیوں میں رہنے والے افراد شدید حبس اور ہیٹ اسٹروک کے خطرات سے براہِ راست دوچار ہیں، کیونکہ ان کے پاس جدید موسمیاتی تحفظ کی سہولیات میسر نہیں ہیں۔
حکومتی اداروں اور ایمرجنسی رسپانس ٹیموں نے اس صورتحال پر قابو پانے کے لیے ہنگامی اقدامات کا آغاز کر دیا ہے، تاکہ کم آمدنی والے طبقات کو ریلیف فراہم کیا جا سکے اور پبلک کولنگ سینٹرز قائم کیے جا سکیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی شدت کے یہ واقعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ ماحولیاتی تبدیلیوں کا بوجھ سب سے زیادہ معاشرے کے پس ماندہ طبقات کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ حکام کی جانب سے شہریوں کو دوپہر کے وقت گھروں میں رہنے اور زیادہ سے زیادہ پانی استعمال کرنے کی ہدایات جاری کی جا رہی ہیں تاکہ جانی نقصان کو کم سے کم کیا جا سکے۔