Pakistan
مہنگائی کے اثرات: جشنِ آزادی کا تہوار اور عوامی مشکلات
ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے باعث اس سال یومِ آزادی کا تہوار سادگی سے منایا جا رہا ہے۔ شہریوں کے لیے قومی پرچم اور سجاوٹ کی اشیاء خریدنا بھی مشکل ہو گیا ہے۔
ملک بھر میں یومِ آزادی کی تیاریاں جاری ہیں لیکن اس بار مہنگائی کے بادلوں نے جشن کے رنگ کو کافی حد تک پھیکا کر دیا ہے۔ گزشتہ کچھ عرصے سے اشیائے خورونوش سمیت ہر چیز کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کا براہِ راست اثر قومی تہواروں کی خوشیوں پر بھی پڑا ہے۔ بازاروں میں وہ گہما گہمی نظر نہیں آ رہی جو عام طور پر 14 اگست کے قریب دیکھنے کو ملتی تھی۔ متوسط اور غریب طبقے کے لیے بچوں کے لیے نئے کپڑے، سبز ہلالی پرچم اور گھروں کی سجاوٹ کا سامان خریدنا انتہائی دشوار ہو گیا ہے۔ دکانداروں کا کہنا ہے کہ مہنگائی کی وجہ سے خریداروں کی قوتِ خرید بہت زیادہ متاثر ہوئی ہے اور لوگ صرف انتہائی ضروری اشیاء ہی خریدنے پر مجبور ہیں۔ پرچموں اور بیجز کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کی وجہ سے گزشتہ برسوں کے مقابلے میں اب کی بار اسٹالز پر کم رش دکھائی دے رہا ہے۔ دوسری جانب شہریوں کا کہنا ہے کہ وہ وطن سے محبت کا اظہار اپنے دل میں رکھتے ہیں اور قومی دن کو بھرپور طریقے سے منانا چاہتے ہیں، مگر بڑھتے ہوئے مالی دباؤ نے انہیں تہوار کی رونقوں سے دور کر دیا ہے۔ حکومت اور متعلقہ اداروں کی جانب سے اس صورتحال پر قابو پانے کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں، لیکن عام آدمی کی زندگی میں ریلیف تاحال خواب بنا ہوا ہے۔ ان تمام مشکلات کے باوجود پاکستانی قوم کا جوشِ آزادی مدھم نہیں پڑا اور شہری اپنے محدود وسائل کے اندر رہتے ہوئے ہی سہی، سبز ہلالی پرچم لہرا کر یومِ آزادی شایانِ شان طریقے سے منانے کے لیے پرعزم ہیں۔