World
براڈ پیک ایوان لانچ: جاں بحق کوہ پیمائوں کو خراج عقیدت
ڈپٹی وزیراعظم نے براڈ پیک ایوان لانچ کے حادثے میں جان کی بازی ہارنے والے عالمی شہرت یافتہ کوہ پیمائوں کو شاندار خراج عقیدت پیش کیا ہے۔ اس حادثے میں نمل پرجا سمیت دس کوہ پیما جاں بحق ہوگئے تھے جن کی لاشیں ملنے کے بعد دنیا بھر میں سوگ کی فضا ہے۔
نائب وزیراعظم نے براڈ پیک کے پہاڑی سلسلے میں پیش آنے والے ایک افسوسناک اور دلخراش ایوان لانچ کے حادثے میں جاں بحق ہونے والے نامور کوہ پیمائوں کی عظیم خدمات کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا ہے۔ حکومت پاکستان اور اعلیٰ حکام کی جانب سے اس المناک واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا گیا ہے جہاں قدرتی آفت کی وجہ سے دنیا بھر سے تعلق رکھنے والے مایہ ناز کوہ پیما لقمہ اجل بن گئے۔ یہ حادثہ کوہ پیمائی کی تاریخ کے سیاہ ترین ابواب میں سے ایک ہے جس نے پوری دنیا کے ایڈونچر اسپورٹس کمیونیکیشن کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق عالمی شہرت یافتہ کوہ پیمائوں میں نمل پرجا بھی شامل تھے جو اس خوفناک سانحے میں دیگر نو ساتھیوں سمیت اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ نمل پرجا کی موت کی تصدیق کے بعد ان کے آبائی ملک نیپال کے ایک اسکول اور دنیا بھر میں ان کے چاہنے والوں میں سوگ کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ان کی لاش کی برآمدگی کے بعد ریسکیو اور سرچ آپریشن کے دوران پیش آنے والی مشکلات اور خطرات کا بھی انکشاف ہوا ہے، جس سے بلند و بالا چوٹیوں کو سر کرنے والے کوہ پیمائوں کی حفاظت پر ایک بار پھر سنجیدہ سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔
قومی اور بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس سانحے نے کوہ پیمائی کے دوران حفاظتی اقدامات اور موسمی حالات کے پیش نظر احتیاطی تدابیر کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔ نیشنل جیوگرافک اور دیگر تحقیقی اداروں نے اس حادثے کے اسباب کا جائزہ لینا شروع کر دیا ہے تاکہ مستقبل میں ایسے اندوہناک واقعات سے بچا جا سکے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ براڈ پیک اور اس کے اردگرد کے پہاڑوں پر موسمی تغیرات اور غیر یقینی حالات کوہ پیمائوں کے لیے ہمیشہ سے ایک بڑا چیلنج رہے ہیں، جن سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی تعاون اور بہتر حکمت عملی کی اشد ضرورت ہے۔
آخر میں، نائب وزیراعظم نے جاں بحق ہونے والے تمام کوہ پیمائوں کے لواحقین سے دل کی گہرائیوں سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی بہادری اور پہاڑوں کے ساتھ عشق کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ حکومت پاکستان مشکل کی اس گھڑی میں متاثرہ خاندانوں اور متعلقہ ممالک کے ساتھ کھڑی ہے اور کوہ پیمائوں کی تلاش اور ریسکیو کے کاموں میں حصہ لینے والی ٹیموں کی کوششوں کو بھی سراہا گیا ہے جنہوں نے اپنی جان جوکھم میں ڈال کر امدادی کارروائیوں میں حصہ لیا۔