LIVE
Loading Breaking News...

امریکا ایران جوہری معاہدہ اور آبنائے ہرمز کھولنے کی نئی سفارتی کوششیں

News Image
اسرائیلی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق ثالث ممالک امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور معاہدے کو بحال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس تجویز کے تحت آبنائے ہرمز کو ساٹھ روز تک بغیر کسی فیس کے تمام بحری جہازوں کے لیے کھولنے پر غور کیا جا رہا ہے۔
مشرق وسطیٰ میں جاری سفارتی سرگرمیوں کے درمیان یہ بات سامنے آئی ہے کہ ثالث فریقین امریکا اور ایران کے مابین پرانے معاہدے کو دوبارہ زندہ کرنے کے لیے بھرپور کوششیں کر رہے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا کے ذرائع کے مطابق اس نئی سفارتی پیش رفت کا مقصد خطے میں تناؤ کو کم کرنا اور سمندری تجارت کے اہم راستوں کو محفوظ بنانا ہے۔ اس تجاویز کے پیکج میں ایک اہم نکتہ یہ بھی شامل ہے کہ انتہائی حساس سمندری گزرگاہ آبنائے ہرمز کو ساٹھ دن کی مدت کے لیے بغیر کسی اضافی فیس یا ٹیکس کے کھول دیا جائے، جس سے بین الاقوامی سمندری تجارت کو بڑا ریلیف مل سکتا ہے۔ بین الاقوامی امور کے ماہرین کے مطابق اس اقدام سے نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان جاری خلیج کو کم کرنے میں مدد ملے گی بلکہ عالمی منڈی میں توانائی کی سپلائی لائن بھی مستحکم ہوگی۔ اس سے قبل بھی خطے میں امن و امان کی بحالی کے لیے متعدد ممالک کی جانب سے مصالحتی کوششیں کی جاتی رہی ہیں، تاہم حالیہ رپورٹس نے ایک بار پھر عالمی طاقتوں کی توجہ اس اہم ترین سمندری گزرگاہ کی طرف مبذول کرا دی ہے۔ توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ اگر یہ سفارتی کوششیں بارآور ثابت ہوتی ہیں تو آنے والے دنوں میں خطے کی معاشی اور سیاسی صورتحال میں نمایاں بہتری دیکھنے کو ملے گی، جس کے اثرات عالمی سطح پر محسوس کیے جائیں گے۔