Business
مشرق وسطیٰ جنگ: تیل کمپنیوں کے منافع میں ریکارڈ اضافہ
مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور ایران کے خلاف جنگ کے نتیجے میں خام تیل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس سے بڑی تیل کمپنیوں کے منافع میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔ اس صورتحال پر سیاسی حلقوں اور سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بھی شدید تنقید کی جا رہی ہے۔
مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور تنازعات کے اثرات اب عالمی معیشت اور توانائی کے شعبے پر گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ حال ہی میں سامنے آنے والی رپورٹس کے مطابق، ایران کے ساتھ جنگ اور کشیدگی کے باعث خام تیل کی قیمتوں میں فی بیرل 126 ڈالر تک کا بڑا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ تیل کی قیمتوں میں اس طوفانی تیزی کا براہ راست فائدہ دنیا کی بڑی تیل کمپنیوں کو پہنچا ہے، جنہوں نے اپنے سہ ماہی مالیاتی نتائج میں ریکارڈ منافع کا اعلان کیا ہے۔ معروف انرجی کارپوریشنز جیسے کہ ایکسسن موبل اور شیبرون نے اس دوران بھاری کمائی کی ہے، جس نے عالمی سطح پر توانائی کے بحران اور کارپوریٹ منافع خوری پر ایک بار پھر بحث چھڑ دی ہے۔
اس صورتحال پر مختلف حلقوں کی طرف سے شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان بڑھتے ہوئے کارپوریٹ منافعوں پر کڑی تنقید کی ہے اور اس بات پر زور دیا ہے کہ بحران کے اس دور میں عام صارفین کو مہنگائی کا سامنا ہے جبکہ انرجی کمپنیاں بے تحاشا منافع کما رہی ہیں۔ ماہرینِ معاشیات کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال نے رس رسد کے نظام کو بری طرح متاثر کیا ہے، جس کی وجہ سے تیل کی عالمی منڈی میں قیمتیں مسلسل بلند سطح پر برقرار ہیں۔ شیل اور دیگر بڑی تیل فرموں کا شیئر بھی اس تیزی سے مثبت انداز میں متاثر ہوا ہے، تاہم عالمی رہنما اور معاشی ماہرین خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ توانائی کی بلند قیمتیں دنیا بھر میں مہنگائی کی نئی لہر کو جنم دے سکتی ہیں۔
کاروباری روز کے دوران انرجی سیکٹر کے حصص میں نمایاں اتار چڑھاو دیکھا گیا کیونکہ سرمایہ کار مشرق وسطیٰ کے حالات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ اگرچہ تیل کمپنیوں کے شیئر ہولڈرز کے لیے یہ دور مالیاتی لحاظ سے انتہائی سودمند ثابت ہو رہا ہے، لیکن دوسری طرف صنعتی اور گھریلو صارفین کے لیے ایندھن کی بلند قیمتیں بوجھ بنتی جا رہی ہیں۔ حکومتیں اور بین الاقوامی ادارے اس بحران سے نمٹنے کے لیے مختلف تجاویز پر غور کر رہے ہیں تاکہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کو اعتدال پر لایا جا سکے اور توانائی کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے، تاہم جب تک تنازع حل نہیں ہوتا، مارکیٹ میں غیر یقینی کی یہ فضا برقرار رہنے کا امکان ہے۔