LIVE
Loading Breaking News...

سندھ میں گھوسٹ اسکولز کی فلم کی نمائش پر پابندی عائد

News Image
سندھ کے فلم سنسر بورڈ نے صوبے میں 'گھوسٹ اسکولوں' کے حساس موضوع پر بنائی جانے والی ایک متنازع فلم کی اسکریننگ پر پابندی عائد کر دی ہے۔ اس فیصلے کے بعد فلم ساز حلقوں میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے اور اسے اظہارِ رائے کی آزادی کے خلاف قرار دیا جا رہا ہے۔
سندھ کے فلم سنسر بورڈ نے صوبے کے تعلیمی نظام کے ایک تلخ حقیقت یعنی 'گھوسٹ اسکولوں' کے موضوع پر بنائی جانے والی ایک اہم فلم کی نمائش پر باضابطہ طور پر پابندی عائد کر دی ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ فلم صوبے میں تعلیمی اداروں کی حالتِ زار اور بوگس اسکولوں کے نیٹ ورک کو اجاگر کرتی ہے، جسے سنسر بورڈ نے موجودہ حالات کے تناظر میں نامناسب قرار دیا ہے۔ فلم سازوں کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے موضوعات پر فلم سازی کا مقصد معاشرے میں موجود خامیوں کی اصلاح کرنا ہے نہ کہ کسی ادارے کی دل آزاری کرنا، تاہم بورڈ کے فیصلے نے تخلیقی آزادی کے حوالے سے ایک بار پھر بحث چھڑ دی ہے۔ محکمہ تعلیم اور متعلقہ حکام نے اس فلم کے مندرجات پر تحفظات کا اظہار کیا تھا، جن کا مؤقف تھا کہ اس سے صوبے کے تعلیمی ڈھانچے کے بارے میں منفی تاثرات پھیل سکتے ہیں۔ دوسری جانب سول سوسائٹی اور فلمی نقادوں کا کہنا ہے کہ زمینی حقائق پر مبنی فلموں کو سنسر کرنے کے بجائے ان مسائل پر کھلے دل سے بات ہونی چاہیے تاکہ بہتری کی گنجائش پیدا کی جا سکے۔ ناقدین کا یہ بھی ماننا ہے کہ اس طرح کی پابندیوں سے تخلیق کاروں کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے جو اپنے فن کے ذریعے معاشرتی اصلاح کی کوشش کرتے ہیں۔ اس پابندی کے نفاذ کے بعد فلمی صنعت سے وابستہ افراد اور ڈائریکٹرز نے حکومتِ سندھ اور سنسر بورڈ کے حکام سے نظرثانی کی اپیل کی ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ فلم کو کمیٹی کے سامنے دوبارہ پیش کرنے کا موقع دیا جائے اور غیر ضروری کٹس یا مکمل پابندی کے فیصلے پر نظرثانی کی جائے۔ معلوم ہوا ہے کہ فلم کے پروڈیوسرز اس معاملے پر قانونی چارہ جوئی اور اعلیٰ عدلیہ سے رجوع کرنے پر بھی غور کر رہے ہیں تاکہ عوام کو اس حقیقت پر مبنی فلم کو دیکھنے کا موقع مل سکے۔