Business
بی پی کا منافع چار سال میں سب سے زیادہ، تیل کی قیمتوں میں تیزی
توانائی کے شعبے کی بڑی کمپنی بی پی نے چار سال کا سب سے زیادہ منافع درج کیا ہے، جس کی بنیادی وجہ ایران میں جاری جنگ کے باعث تیل کی بلند قیمتیں ہیں۔ اس صورتحال کے بعد ماحولیاتی تنظیموں نے توانائی کے اداروں پر منافع خوری کا الزام عائد کیا ہے۔
برطانیہ کی معروف توانائی کمپنی بی پی (BP) نے اپنے مالیاتی نتائج کا اعلان کر دیا ہے جس کے مطابق کمپنی کا منافع گزشتہ چار سال کے دوران اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ دنیا بھر میں توانائی کے شعبے پر گہرے اثرات مرتب کرنے والے اس رجحان کی بنیادی وجہ ایران جنگ کے تناظر میں تیل اور گیس کی بین الاقوامی مارکیٹ میں قیمتوں میں ہونے والا نمایاں اضافہ ہے۔ اس مالیاتی کامیابی نے جہاں ایک طرف سرمایہ کاروں کو مطمئن کیا ہے، وہیں دوسری طرف عالمی سطح پر نئی بحث کو بھی جنم دیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور خاص طور پر ایران سے جڑے تنازعات کی وجہ سے تیل کی رس رسد شدید متاثر ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں خام تیل کے نرخ آسمان کو چھونے لگے۔ توانائی کی بڑی کمپنیاں اس صورتحال سے بھرپور فائدہ اٹھانے میں کامیاب رہی ہیں اور بی پی کا شمار ان اداروں میں ہوتا ہے جنہوں نے ان بلند قیمتوں کے طفیل اپنی آمدنی میں ریکارڈ اضافہ درج کیا۔ کمپنی کے حصص کی قدر میں بھی اس بہتری کے بعد مثبت رجحان دیکھا گیا ہے۔
تاہم، اس منافع پر دنیا بھر میں شدید تنقید بھی کی جا رہی ہے۔ متعدد ماحولیاتی اور فلاحی تنظیموں نے توانائی کے ان دیو قامت اداروں پر سخت الفاظ میں تنقید کرتے ہوئے انہیں منافع خوری کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ ان تنظیموں کا موقف ہے کہ جب عام صارفین مہنگائی اور مہنگی توانائی کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں، ایسے میں توانائی کمپنیوں کا جنگی حالات سے فائدہ اٹھا کر ریکارڈ منافع کمانا اخلاقی طور پر درست نہیں ہے۔ ماحولیاتی کارکنوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان کمپنیوں کو چاہیے کہ وہ اپنی اضافی آمدنی کا بڑا حصہ روایتی ایندھن کے بجائے قابل تجدید اور ماحول دوست توانائی کے منصوبوں کی طرف منتقل کریں۔
دوسری جانب، کاروباری حلقوں کا خیال ہے کہ مارکیٹ کے اپنے تقاضے ہیں اور کمپنیاں عالمی طلب و رسد کے قوانین کے تحت ہی کام کرتی ہیں۔ بی پی کی جانب سے آنے والے دنوں میں اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے مزید حکمت عملی کا اعلان متوقع ہے، جبکہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بدستور سیاسی اور عسکری حالات کے رحم و کرم پر ہیں۔