LIVE
Loading Breaking News...

فرانسیسی جنگلات میں آگ سے دوسری جنگ عظیم کے گولے برآمد

News Image
فرانس کے ایک گاؤں میں جنگلات کی ہولناک آگ کے دوران ہونے والے دھماکوں نے دوسری جنگِ عظیم کے سینکڑوں پرانے گولے اور بارود بے نقاب کر دیے ہیں۔ مقامی حکام اور ماہرین اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے حفاظتی اقدامات کر رہے ہیں۔
فرانس کے ایک پُر سکون گاؤں لو پورج میں جنگلات میں لگی خوفناک آگ نے ایک غیر متوقع اور خطرناک صورتحال کو جنم دیا ہے۔ آگ کے اس واقعے کے دوران وقفے وقفے سے ہونے والے پراسرار دھماکوں نے مقامی رہائشیوں اور فائر فائٹرز کو تشویش میں مبتلا کر دیا تھا، جن کی تحقیقات کے بعد معلوم ہوا کہ یہ دھماکے دراصل دوسری جنگِ عظیم کے دوران دفن کیے گئے پرانے گولہ بارود کے پھٹنے سے ہو رہے تھے۔ حکام کے مطابق، جنگلات کی شدید آگ نے زمین کی سطح کو متاثر کیا اور برسوں پرانی مٹی ہٹنے کے نتیجے میں سینکڑوں کی تعداد میں جنگی گولے اور بارودی مواد ظاہر ہو گیا۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ تمام گولے اور munitions اس علاقے میں دوسری جنگِ عظیم کے زمانے سے موجود تھے، جو کہ اب تک زمین کے اندر دبے ہوئے تھے لیکن شدید گرمی اور آگ کے اثرات کی وجہ سے ان میں دھماکے شروع ہو گئے۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی بم ڈسپوزل اسکواڈ اور سکیورٹی فورسز فوری طور پر موقع پر پہنچ گئیں تاکہ علاقے کو گھیرے میں لے کر کسی بھی بڑے جانی یا مالی نقصان کو روکا جا سکے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس خطے میں جنگِ عظیم کے زمانے کے گولہ بارود کا ملنا کوئی انہونی بات نہیں ہے، تاہم آگ کی وجہ سے ان کا بیک وقت فعال ہو جانا ایک انتہائی خطرناک صورتحال پیدا کر سکتا ہے۔ فائر فائٹرز اور ریسکیو اداروں نے آگ بجانے کے کام کے ساتھ ساتھ اس بارودی مواد کو ناکارہ بنانے کے لیے بھی آپریشن شروع کر دیا ہے۔ مقامی انتظامیہ نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ متاثرہ علاقوں کے قریب جانے سے گریز کریں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار حادثے سے بچا جا سکے، جبکہ تحقیقات کا سلسلہ بھی جاری ہے کہ مزید کتنے علاقے میں ایسا مواد موجود ہو سکتا ہے۔