LIVE
Loading Breaking News...

جاپان میں شدید گرمی سے تین شیر ہلاک، چڑیا گھر انتظامیہ کی نااہلی

News Image
جاپان میں پڑنے والی شدید گرمی اور ہیٹ ویو کی وجہ سے چڑیا گھر میں موجود تین شیر ہلاک ہو گئے ہیں۔ پوسٹ مارٹم رپورٹس سے انکشاف ہوا ہے کہ شیروں کی موت پانی کی شدید کمی اور متعدد اعضاء کے فیل ہونے کی وجہ سے ہوئی۔
ٹوکیو: جاپان میں پڑنے والی شدید گرمی اور تاریخ کی بدترین گرم لہر نے نہ صرف انسانی زندگی کو متاثر کیا ہے بلکہ اب جنگلی حیات بھی اس کا نشانہ بن رہی ہے۔ حالیہ اطلاعات کے مطابق جاپان کے ایک چڑیا گھر میں شدید گرمی کے باعث تین شیر ہلاک ہو گئے ہیں۔ اس دلخراش واقعے کے بعد جانوروں کے حقوق کے کارکنوں کی طرف سے بھی تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے اور چڑیا گھروں میں جانوروں کی دیکھ بھال کے انتظامات پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ چڑیا گھر کی انتظامیہ اور متعلقہ حکام نے اس افسوسناک واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ جانوروں کو اس شدید موسم سے بچانے کی بھرپور کوشش کی گئی تھی لیکن درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافے کی وجہ سے صورتحال قابو سے باہر ہو گئی۔ ماہرین کے مطابق یہ واقعہ موسمیاتی تبدیلیوں کے تباہ کن اثرات کا ایک اور منہ بولتا ثبوت ہے۔ واقعے کے فوراً بعد مرنے والے شیروں کے پوسٹ مارٹم کیے گئے تاکہ ان کی موت کی اصل وجوہات کا سائنسی بنیادوں پر تعین کیا جا سکے اور کسی بھی قسم کی غفلت یا بیماری کا پتہ لگایا جا سکے۔ پوسٹ مارٹم کی ابتدائی اور حتمی رپورٹس کے مطابق تینوں شیروں کی موت کی بنیادی وجہ جسم میں پانی کی شدید کمی یعنی ڈی ہائیڈریشن اور بیک وقت جسم کے متعدد اہم اعضاء کا فیل ہونا (मल्टीपल ऑर्गन फेलियर) بتائی گئی ہے۔ ڈاکٹرز اور پیتھالوجسٹس کا کہنا ہے کہ ہیٹ اسٹروک اتنی شدت کا تھا کہ شیروں کے جسمانی افعال نے کام کرنا چھوڑ دیا جس سے ان کی جان بچائی نہ جا سکی۔ اس رپورٹ نے جانوروں کی دیکھ بھال کرنے والے اداروں اور منتظمین کو ہلا کر رکھ دیا ہے کیونکہ اتنی بڑی تعداد میں بڑے جانوروں کا اس طرح سے ہلاک ہونا انتہائی تشویشناک ہے۔ اس واقعے کے بعد اب دنیا بھر کے چڑیا گھروں میں جانوروں کے لیے حفاظتی انتظامات اور گرمی کی لہر سے نمٹنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر لائحہ عمل تیار کرنے پر غور شروع ہو چکا ہے۔ ماہرین حیوانات کا پرزور مطالبہ ہے کہ گرمیوں کے موسم میں جب درجہ حرارت خطرناک حد تک بڑھ جائے تو چڑیا گھروں میں سایہ دار مقامات، کولنگ سسٹمز اور ٹھنڈے پانی کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنایا جائے تاکہ ایسے دلخراش واقعات کی روک تھام کی جا سکے۔ جاپانی حکام اس واقعے کی مزید تحقیقات کر رہے ہیں تاکہ یہ جانچا جا سکے کہ آیا دیکھ بھال میں کوئی کوتاہی تو نہیں ہوئی تھی۔