Politics
ریفارم پارٹی کا تارکین وطن کی کشتیاں روکنے کے لیے نیوی کے استعمال کا دعویٰ
برطانیہ کی ریفارم پارٹی نے اصرار کیا ہے کہ انگلش چینل میں تارکین وطن کی چھوٹی کشتیوں کو روکنے کے لیے برطانوی نیوی کا استعمال مکمل طور پر قانونی ہو سکتا ہے۔ اس مجوزہ پالیسی کا مقصد سمندری حدود میں غیر قانونی نقل و حرکت کو سختی سے کنٹرول کرنا ہے۔
برطانیہ کی سیاسی فضا میں تارکین وطن کا مسئلہ ایک بار پھر شدت اختیار کر گیا ہے، اور اس بار بحث کا محور یہ ہے کہ آیا ملکی بحریہ کو اس سلسلے میں استعمال کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔ ریفارم یو کے کی جانب سے حال ہی میں یہ مؤقف اپنایا گیا ہے کہ اگر حکومت چاہے تو انگلش چینل میں غیر قانونی طور پر آنے والی چھوٹی کشتیوں کو روکنے کے لیے برطانوی نیوی (Royal Navy) کی خدمات حاصل کی جا سکتی ہیں، اور یہ قدم بین الاقوامی اور ملکی قوانین کے عین مطابق ہوگا۔ پارٹی کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ملکی سرحدوں کا دفاع اور سمندری حدود کی حفاظت ریاست کی اولین ذمہ داری ہے، جس کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جانے چاہئیں۔
ماضی میں بھی برطانوی سیاست میں تارکین وطن کی آمد کو لے کر سخت گیر اقدامات پر بحث ہوتی رہی ہے، تاہم نیوی کے باقاعدہ استعمال کو لے کر قانونی ماہرین کے درمیان آراء مختلف رہی ہیں۔ ناقدین کا خیال ہے کہ سمندر میں کشتیوں کو زبردستی روکنا یا واپس دھکیلنا انسانی حقوق کے بین الاقوامی قوانین سے متصادم ہو سکتا ہے اور اس سے سنگین انسانی بحران پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔ اس کے برعکس، ریفارم پارٹی کے حامیوں کا اصرار ہے کہ موجودہ صورتحال قومی سلامتی اور سرحدی نظم و ضبط کے لیے خطرہ بن چکی ہے، اس لیے سخت ترین اقدامات اٹھانا ناگزیر ہو چکا ہے۔
حکومتی سطح پر اس تجویز پر فی الحال گہری نظر رکھی جا رہی ہے کیونکہ اس نوعیت کے اقدامات کے لیے نہ صرف قانون سازی کی ضرورت ہوتی ہے بلکہ بین الاقوامی معاہدوں کا بھی پاس رکھنا پڑتا ہے۔ برطانوی عوام میں تارکین وطن کی بڑھتی ہوئی تعداد پر تشویش پائی جاتی ہے، اور سیاسی جماعتیں آنے والے دنوں میں اس موضوع کو اپنے انتخابی یا سیاسی بیانیے کا اہم حصہ بنانے کی تیاری کر रही ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ آیا برطانوی حکومت مستقبل میں اس حوالے سے کوئی نیا لائحہ عمل طے کرتی ہے یا پھر اس تجویز کو محض سیاسی بحث تک ہی محدود رکھا جاتا ہے۔