World
بیروت دھماکہ: چھ سال بعد بھی انصاف اور فرد جرم کا انتظار
بیروت بندرگاہ پر ہولناک دھماکے کے چھ سال گزر جانے کے باوجود اب تک کوئی فرد جرم عائد نہیں کی جا سکا ہے۔ متاثرہ خاندانوں اور عوام نے واقعے کی شفاف تحقیقات اور ذمہ داران کے احتساب کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔
لبنان کے دارالحکومت بیروت کی بندرگاہ پر رونما ہونے والے تباہ کن دھماکے کو چھ سال بیت چکے ہیں، لیکن متاثرہ خاندان اور عوام اب بھی انصاف کے منتظر ہیں۔ طویل عرصے سے جاری ملکی تحقیقات اب اپنے انجام کو پہنچ چکی ہیں مگر حیرت انگیز طور پر اس سانحے کے ذمہ داروں کے خلاف اب تک کوئی باضابطہ فرد جرم عائد نہیں کی جا سکی ہے۔ انصاف کی اس تاخیر پر شہریوں اور متاثرین میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔
یاد رہے کہ چھ سال قبل بیروت پورٹ پر ہونے والے اس غیض و غضب والے دھماکے نے پورے شہر کو ہلا کر رکھ دیا تھا جس کے نتیجے میں سیکڑوں افراد لقمہ اجل بنے اور ہزاروں زخمی ہوئے جبکہ اربوں ڈالر کی املاک تباہ ہو گئیں۔ اس دلخراش واقعے کے بعد سے لے کر اب تک مقامی سطح پر تحقیقاتی عمل متعدد بار رکاوٹوں کا شکار رہا ہے۔ سیاسی دباؤ اور قانونی پیچیدگیوں کی وجہ سے اس بڑے سانحے کے اصل محرکات اور مجرموں کو بے نقاب کرنے کا عمل تاخیر کا شکار ہوتا رہا ہے۔
اب جبکہ مقامی تحقیقات کے مکمل ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، تو عوام کی جانب سے یہ سوال شدت سے اٹھایا جا رہا ہے کہ آخر کب مجرموں کے خلاف باضابطہ کارروائی کا آغاز ہوگا۔ متاثرین کے لواحقین اور شہری تنظیموں نے حکومت اور عدالتی اداروں سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس تاخیری حربوں کو ختم کریں اور بغیر کسی خوف کے شفاف فرد جرم عائد کریں۔ ان کا کہنا ہے کہ جب تک اس المناک واقعے کے ذمہ داران کو کٹہرے میں نہیں لایا جاتا، بیروت کے زخم کبھی نہیں بھر سکتے۔
عالمی سطح پر بھی انسانی حقوق کی تنظیموں اور مبصرین نے اس بات پر زور دیا ہے کہ لبنان کے نظامِ عدل کو سیاسی مداخلت سے بالاتر ہو کر کام کرنا چاہیے۔ بیروت دھماکے کے متاثرین کا یہ قانونی اور اخلاقی حق ہے کہ انہیں انصاف فراہم کیا جائے تاکہ مستقبل میں اس قسم کے لاپرواہی کے واقعات کی روک تھام کی جا سکے۔ قوم اب مزید انتظار کی متحمل نہیں ہو سکتی اور اسے فوری طور پر کڑے احتساب کی ضرورت ہے۔